حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 420
420 اول ترتیب مضامین قرآن ابتداء اور بطن اور آخر کے اعتبار سے سورت الفاتحہ میں قرآن کریم کے تمام مضامین مختصر بیان ہوئے ہیں اعْلَمْ أَنَّ هَذِهِ السُّوْرَةَ لَهَا أَسْمَاء كَثِيرَةً فَاَوَّلُهَا فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَ سُمِّيَتْ بِذَالِكَ لَآنَّهُ يُفْتَتَحَ بِهَا فِي الْمُصْحَفِ وَ فِى الصَّلوةِ وَ فِي مَوَاضِع الدُّعَاءِ مِنْ رَّبِّ الْأَرْبَابِ وَ عِنْدِي أَنَّهَا سُمِّيَتْ بِهَا لِمَا جَعَلَهَا اللهُ حَكَمًا لِلْقُرْآنِ وَ مُلِيَّ فِيْهَا مَا كَانَ فِيْهِ مِنْ أَخْبَارٍ وَّ مَعَارِفَ مِنَ اللَّهِ الْمَنَّانِ وَ اَنَّهَا جَامِعَةٌ لِكُلِّ مَا يَحْتَاجُ الْإِنْسَانُ إِلَيْهِ فِي مَعْرِفَةِ الْمَبْدَءِ وَالْمَعَادِ كَمِثْلِ الْإِسْتِدْلَالِ عَلَى وُجُوْدِ الصَّانِعِ وَ صُرُوْرَةِ النُّبُوَّةِ وَ الْخِلَافَةِ فِي الْعِبَادِ۔وَ مِنْ اَعْظَمِ الْأَخْبَارِ وَاكْبَرِهَا أَنَّهَا تُبَشِّرُ بِزَمَانِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ۔وَايَّامِ الْمَهْدِي الْمَعْهُوْدِ وَسَنَذْكُرُهُ فِي مَقَامِهِ بِتَوْفِيْقِ اللَّهِ الْوَدُوْدِ۔سورۃ فاتحہ کا پہلا نام فاتحۃ الکتاب اور اس کی وجہ ( ترجمہ از مرتب ) جاننا چاہیے کہ سورۃ فاتحہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے پہلا نام فاتحۃ الکتاب ہے اور اس کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ قرآن مجید اسی سورۃ سے شروع ہوتا ہے۔نماز میں بھی پہلے یہی سورۃ پڑھی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ سے جو رب الا رباب ہے دعا کرتے وقت اسی ( سورۃ ) سے ابتدا کی جاتی ہے۔اور میرے نزدیک اس سورۃ کو فاتحہ اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو قرآن کریم کے مضامین کے لیے حکم قرار دیا ہے۔اور جو اخبار غیبیہ اور حقائق و معارف قرآن مجید میں احسان کرنے والے خدا کی طرف سے بیان کیے گئے ہیں وہ سب اس میں بھر دیئے گئے ہیں اور جن امور کا انسان کو مبدء و معاد ( دنیا اور آخرت ) کے سلسلہ میں جاننا ضروری ہے وہ سب اس میں موجود ہیں۔مثلاً وجود باری ضرورت نبوت اور مومن بندوں میں سلسلہ خلافت کے قیام پر استدلال اور اس سورۃ کی سب سے بڑی اور اہم خبر یہ ہے کہ یہ سورۃ مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ کی بشارت دیتی ہے اور اسے ہم خدائے ودود کی دی ہوئی توفیق سے اس کے محل پر بیان کریں گے۔اعجاز اح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 71-70) سورۃ فاتحہ ایک معجزہ ہے سورۃ فاتحہ تو ایک معجزہ ہے اس میں امر بھی ہے۔نہی بھی ہے۔پیشگوئیاں بھی ہیں۔قرآن شریف تو ایک بہت بڑا سمندر ہے۔کوئی بات اگر نکالنی ہو تو چاہیے کہ سورۃ فاتحہ میں بہت غور کرے۔کیونکہ یہ ام الکتاب ہے۔اس کے بطن سے قرآن کریم کے مضامین نکلتے ہیں۔الحام 10 فروری 1901 صفحہ 12 تفسیر حضرت اقدس سورۃ الفاتحہ جلد 1 صفحہ 17)