حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 418 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 418

418 قرآن کریم کی ترتیب بیان ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف بیٹی اور عیسی علیہ السلام کے قصہ کو ایک جا جمع کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے بیٹی علیہ السلام کی پیدایش خوارق طریق سے ہے ویسے ہی مسیح کی بھی ہے پھر یحییٰ علیہ السلام کی پیدائیش کا حال بیان کر کے مسیح کی پیدائیش کا حال بیان کیا ہے۔یہ ترتیب قرآنی بھی بتلاتی ہے کہ ادفی حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کی ہے۔یعنی جس قدر معجز نمائی کی قوت بیٹی کی پیدائیش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدائیش میں ہے۔اگر اس میں کوئی معجزانہ بات نہ تھی تو بیٹی کی پیدائیش کا ذکر کر کے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیٹر دیا اس سے کیا فائدہ تھا یہ اسی لیے کیا کہ تاویل کی گنجایش نہ رہے ان دونوں بیانوں کا ایک جاذکر ہونا اعجازی امر کو ثابت کرتے ہیں۔اگر یہ نہیں ہے تو گویا قرآن تنزل پر آتا ہے جو کہ اس کی شان کے برخلاف ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 281-280) وہ (سیح علیہ السلام ) بن باپ ہوئے اس کا زبردست ثبوت یہ ہے کہ بیٹی اور عیسی کا قصہ ایک ہی جگہ بیان کیا ہے۔پہلے بیٹی کا ذکر کیا۔جو بانجھ سے پیدا ہوئے۔دوسرا قصہ مسیح کا اس کے بعد بیان فرمایا۔جو اس سے ترقی پر ہونا چاہیے تھا۔اور وہ یہی ہے۔کہ وہ بن باپ ہوئے۔اور یہی امر خارق عادت ہے اگر بانجھ سے پیدا ہونے (والے) بیچی کے بعد باپ سے پیدا ہونے والے کا ذکر ہوتا۔تو اس میں خارق عادت کی کیا بات ہوئی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 571-570) اللہ جلہ شانہ نے آیہ کریمہ ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو مقدم رکھا تا اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ جو کچھ عملی اور علمی طور پر ہم کو پہلے تو فیق دی گئی ہے چاہئے کہ ہم اس کو بجالا ویں اور پھر جو ہمارے علم اور طاقت سے باہر ہو اس میں خدا تعالیٰ سے امداد چا ہیں۔(البدر جلد 2 نمبر 36-25 ستمبر 1903 ء صفحہ 382 کالم نمبر 3۔مکتوبات احمد۔مکتوب بنام ایک شیعہ صاحب کے یہ خط برائے اندراج بدر مکرم سید مدثر شاہ صاحب نے بھیجا )