حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 416 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 416

416 ترتیب مضامین قرآن واقعات خارجیہ کے مطابق ہے إِذْ قَالَ اللَّهُ يَعِيْسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَيَّ وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَاحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ (آل عمران:56) کیونکہ اس آیت کریمہ میں لف نشر مرتب ہے۔پہلے وفات کا وعدہ ہے پھر رفع کا پھر تطہیر کا اور پھر یہ کہ خدا تعالیٰ ان کے متبعین کو ہر ایک پہلو سے غلبہ بخش کر مخالفوں کو قیامت تک ذلیل کرتار ہیگا۔اگر اس ترتیب کا لحاظ نہ رکھا جائے تو اس میں بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ ترتیب جو واقعات خارجیہ نے ثابت کر دی ہے ہاتھ سے جاتی رہے گی۔اور کسی کا اختیار نہیں ہے کہ قرآنی ترتیب کو بغیر کسی قوی دستاویز کے اٹھا دے۔کیونکہ ایسا کرنا گویا یہودیوں کے قدم پر قدم رکھنا ہے۔یہ توسیع ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ حرف واؤ کے ساتھ ہمیشہ ترتیب کا لحاظ واجب ہو۔لیکن اس میں کیا شک ہے کہ خدا تعالیٰ اس آیت میں فقرہ متوفیک کو پہلے لایا ہے اور پھر فقر در افعک کو بعد اس کے۔اور پھر اس کے بعد فقرہ مطھرک بیان کیا گیا ہے۔اور بہر حال ان الفاظ میں ایک ترتیب ہے جس کو خدائے علیم و حکیم نے اپنی الغ واضح کلام میں اختیار کیا ہے۔اور ہمارا اختیار نہیں ہے کہ ہم بلا وجہ اس ترتیب کو اٹھا دیں۔اور اگر قرآن شریف کے اور مقامات یعنے بعض اور آیات میں مفسرین نے ترتیب موجودہ قرآن شریف کے برخلاف بیان کیا ہے تو یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ انہوں نے خود ایسا کیا ہے یا وہ ایسا کرنے کے مجاز تھے بلکہ بعض نصوص حدیثیہ نے اسی طرح ان کی شرح کی تھی یا قرآن شریف کے دوسرے مواضع کے قرائن واضحہ نے اس بات کے ماننے کے لئے انھیں مجبور کر دیا تھا کہ ظاہری ترتیب نظر انداز کی جائے۔لیکن پھر بھی خدا تعالے کا ابلغ اور اصح کلام ترتیب سے خالی نہیں ہوتا۔اگر اتفاقا کسی عبارت میں ظاہری ترتیب نہ ہو تو بلحاظ معنے ضرور کوئی ترتیب مخفی ہوتی ہے۔مگر بہر حال ظاہری ترتیب مقدم ہوتی ہے۔اور بغیر وجود کسی نہایت قوی قرینہ کے اس ظاہری ترتیب کو چھوڑ دینا سراسرالحاد اور خیانت اور تریاق القلوب۔۔۔خ۔جلد 15 صفحہ 455-454 حاشیہ ) تحریف ہوتی ہے۔اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے ترتیب وار اپنے تئیں فاعل ٹھہرا کر چار فعل اپنے یکے بعد دیگرے بیان کیسے ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ اے عیسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دینے والا ہوں۔اور ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کیے گئے ہیں کیونکہ اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف بلا یا جاوے اور از جعنی الی ربک کی خبر اس کو پہنچ جائے پہلے اس کا وفات پانا ضروری ہے پھر بموجب آیت کریمہ ارْجِعِي إِلى رَبِّكَ اور حدیث صحیح کے اُس کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے اور وفات کے بعد مومن کی روح کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع لازمی ہے جس پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ناطق ہیں۔(ازالہ اوہام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 606)