حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 415
415 قرآن کریم کی ترتیب الفاظ معجزانہ ہے محمد حسین بٹالوی اور قرآن کریم کی بے ادبی وو یہ ظاہری تک بندی تو مسیلمہ نے بھی کر لی تھی اس میں قرآن شریف کی خصوصیت کیا ہے۔یہ ایک کلمہ ہے جو کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اول المکفرین کی قلم سے قرآن کریم کی شان میں نکلا ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔اس سے بڑھ کر کیا بے ادبی ہوگی کہ قرآن شریف کی آیات کو جو کہ ہر ایک پہلو اور ہر ایک رنگ کیا بلحاظ ظاہر اور کیا بلحاظ باطن کے معجزہ ہے۔تک بندی کہا جاتا ہے۔جیسے قرآن شریف کا باطن معجزہ ہے ویسے ہی اس کے ظاہر الفاظ اور ترتیب بھی معجزانہ ہے۔اگر ہم اس کے ظاہر کو معجزہ نہ مانیں تو پھر باطن کے معجزہ ہونے کی دلیل کیا ہو گی ؟ ایک انسان کا اگر ظاہر بھی گندہ ناپاک اور خبیث ہوگا تو اس کی روحانی حالت کیسے اچھی ہوسکتی ہے؟ عوام الناس اور موٹی نظر والوں کے واسطے تو ظاہری خوبی ہی معجزہ ہوسکتی ہے اور چونکہ قرآن ہر ایک قسم کے طبقہ کے لوگوں کے واسطے ہے اس لیے ہر ایک رنگ میں یہ عجزہ ہے۔مامورمن اللہ کی عداوت کا نتیجہ کفر تک پہنچادیتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 301) الغرض قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہر ایک قسم کے معارف اور اسرار موجود ہیں لیکن ان کے حاصل کرنے کے لیے میں پھر کہتا ہوں کہ اسی قوت قدسیہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔لَا يَمَسُّهُ إلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: (80) - ایسا ہی فصاحت بلاغت میں ( اس کا مقابلہ ناممکن ہے ) مثلاً سورۃ فاتحہ کی موجودہ ترتیب چھوڑ کر کوئی اور ترتیب استعمال کرو تو وہ مطالب عالیہ اور مقاصد عظمیٰ جو اس ترتیب میں موجود ہیں۔ممکن نہیں کہ کسی دوسری ترتیب میں بیان ہوسکیں۔کوئی سی سورۃ لے لو۔خواہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ہی کیوں نہ ہو۔جس قد رنرمی اور ملاطفت کی رعایت کوملحوظ رکھ کر اس میں معارف اور حقائق ہیں، وہ کوئی دوسرا بیان نہ کر سکے گا۔یہ بھی فقط اعجاز قرآن ہی ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے۔جب بعض نادان مقامات حریری یا سبع معلقہ کو بے نظیر اور بے مثل کہتے ہیں اور اس طرح پر قرآن کریم کی بے مانندیت پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ اول تو حریری کے مصنف نے کہیں اس کے بے نظیر ہونے کا دعوی نہیں کیا اور دوم یہ کہ مصنف حریری خود قرآن کریم کی اعجازی فصاحت کا قائل تھا۔علاوہ ازیں معترضین راستی اور صداقت کو ذہن میں نہیں رکھتے بلکہ ان کو چھوڑ کر محض الفاظ کی طرف جاتے ہیں مندرجہ بالا کتابیں حق اور حکمت سے خالی ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 53-52)