حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 407
407 سیاق و سباق بیان کے اعتبار سے جو شخص قرآن کریم کے اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اس پر یہ پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم ورحیم جل شانہ اپنے خواص عباد کے لئے ایسا لفظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتا ہے مگر معنا نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی کریم کے حق میں فرمایا۔وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَى (الضحی : 8) اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنے مشہور اور متعارف جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہ ) تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقادر کھے کہ کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کا فربے دین اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہیئے جو آیت کے سیاق اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا۔اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاوَى وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَاغْنى (الضحى: 9-7) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضال ( یعنی عاشق وجہ اللہ) پایا پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش پایا پس غنی کر دیا۔ان معنوں کی صحت پر یہ ذیل کی آیتیں قرینہ ہیں جو ان کے بعد آتی ہیں یعنی یہ کہ فَاَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ وَ أَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِث۔(الضحی : 12-10) کیونکہ یہ تمام آیتیں لف نشر مرتب کے طور پر ہیں اور پہلی آیتوں میں جو مد عامخفی ہے دوسری آیتیں اس کی تفصیل اور تصریح کرتی ہیں مثلا پہلے فرمایا۔اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاوی۔اس کے مقابل پر یہ فرمایا۔فَلَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَر یعنی یاد کر کہ تو بھی یتیم تھا اور ہم نے تجھ کو پناہ دی ایسا ہی تو بھی یتیموں کو پناہ دے۔پھر بعد اس آیت کے فرمایا۔وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدی۔اس کے مقابل پر یہ فرمایا۔وَ أَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْهَر یعنی یاد کر کہ تو ہمارے وصال اور جمال کا سائل اور ہمارے حقائق اور معارف کا طالب تھا سوجیسا کہ ہم نے باپ کی جگہ ہو کر تیری جسمانی پرورش کی ایسا ہی ہم نے استاد کی جگہ ہو کر تمام دروازے علوم کے تجھ پر کھول دیئے اور اپنے لقاء کا شربت سب سے زیادہ عطا فر مایا اور جو تو نے مانگا سب ہم نے تجھ کو دیا سو تو بھی مانگنے والوں کو ر د مت کر اور ان کو مت جھڑک اور یاد کر کہ تو عائل تھا اور تیری معیشت کے ظاہری اسباب بکلی منقطع تھے سو خدا خود تیرا متولی ہوا اور غیروں کی طرف حاجت لے جانے سے تجھے غنی کر دیا۔نہ تو والد کا محتاج ہوا نہ والدہ کا۔نہ استاد کا اور نہ کسی غیر کی طرف حاجت لے جانے کا بلکہ یہ سارے کام تیرے خدا تعالیٰ نے آپ ہی کر دیے اور پیدا ہوتے ہی اس نے تجھ کو آپ سنبھال لیا سواس کا شکر بجالا اور حاجت مندوں سے تو بھی ایسا ہی معاملہ کر۔اب ان تمام آیات کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ ضال کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ