حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 406 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 406

406 باعتبار اقوال غیر اللہ اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جیسے آجکل بعض کھلونے ایسے بنائے جاتے ہیں کہ ہوا کے اندر اور باہر آنے سے ان میں سے ایک آواز نکلتی ہے۔یا جیسے بعض زمیندار اپنے کھیتوں پر چمڑہ کا ایک ڈھول سا بنا لیتے ہیں اور اس میں سے بھیڑیے کے مشابہ ایک آواز نکلتی ہے۔ایسا ہی یہ بھی ایک کھلونا تھا۔اور قوم کو دھوکہ دینے کے لئے اور نیز اس گوسالہ کو ایک مقدس ثابت کرنے کے لئے یہ ایک جھوٹا اور بے اصل بیان سامری نے پیش کر دیا۔کہ رسول کے قدموں کی خاک کی برکت سے یہ آواز آتی ہے۔تاوہ لوگ اس گوسالہ کو بہت ہی مقدس سمجھ لیں۔اور تا سامری ایک کراماتی انسان مانا جائے۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رونق اور عزت کم ہو جائے۔قرآن شریف نے ہرگز اس بات کی تصدیق نہیں کی که در حقیقت وہ آواز رسول کی خاک قدم کی وجہ سے تھی۔صرف سامری کا قول نقل کر دیا ہے۔اور جیسا کہ قرآن شریف کی عادت ہے جو بعض اوقات کفار کے اقوال نقل کرتا ہے اور بوجہ بداہت بطلان ان اقوال کے رد کرنے کی حاجت نہیں دیکھتا بلکہ فقط قائل کا کاذب یا فاسق ہونا بیان کر کے دانشمندوں کو اصل حقیقت سمجھنے کے لئے متنبہ کرتا ہے۔ایسا ہی اس جگہ بھی اس نے کیا۔سواب سامری کے اس جھوٹے منصوبہ کی مشابہت لیکھرام سے یہ ہے کہ آریوں نے بھی محض دھوکہ دہی کی غرض سے لیکھرام کو ایک مقدس اور فاضل انسان قراردیدیا۔تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 400-399) اور نیز اس جگہ یہ یادر ہے کہ خدا تعالئے جو اصدق الصادقین ہے اس نے اپنی کلام میں صدق کو دو قسم قرار دیا ہے۔ایک صدق باعتبار ظاہر الاقوال۔دوسرے صدق باعتبار التاویل والمآل۔پہلی قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسی مریم کا بیٹا تھا۔اور ابراہیم کے دو بیٹے تھے اسمعیل و اسحاق۔کیونکہ ظاہر واقعات بغیر تاویل کے یہی ہیں۔دوسری قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف میں کفار یا گذشتہ مومنوں کے کلمات کچھ تصرف کر کے بیان فرمائے گئے ہیں اور پھر کہا گیا کہ یہ انہی کے کلمات ہیں۔اور یا جو قصے توریت کے ذکر کئے گئے ہیں اور ان میں بہت سا تصرف ہے۔کیونکہ ظاہر ہے کہ جس اعجازی طرز اور طریق اور صحیح فقروں اور دلچسپ استعارات میں قرآنی عبارات ہیں اس قسم کے فصیح فقرے کافروں کے منہ سے ہرگز نہیں نکلے تھے اور نہ یہ ترتیب تھی۔بلکہ یہ ترتیب قصوں کی جو قرآن میں ہے توریت میں بھی بالالتزام ہر گز نہیں ہے۔حالانکہ فرمایا ہے ان هذالـفـى الصحف الاولى صحف ابراهيم و موسى (الاعلى: 19 20) اور اگر یہ کلمات اپنی صورت اور ترتیب اور صیغوں کے رو سے وہی ہیں جو مثلاً کافروں کے منہ سے نکلے تھے تو اس سے اعجاز قرآنی باطل ہوتا ہے۔کیونکہ اس صورت میں وہ فصاحت کفار کی ہوئی نہ قرآن کی۔اور اگر وہی نہیں تو بقول تمہارے کذب لازم آتا ہے۔کیونکہ ان لوگوں نے تو اور اور لفظ اور اور ترتیب اور اور صیغے اختیار کئے تھے۔اور جس طرح مُتَوَفِّیک اور تَوَفَّيْتَنِی دو مختلف صیغے ہیں۔اسی طرح صد ہا جگہ ان کے صیغے اور قرآنی صیغے باہم اختلاف رکھتے تھے مثلاً توریت میں ایک قصہ یوسف ہے نکال کر دیکھ لو۔اور پھر قرآن شریف کی سورہ یوسف سے اس کا مقابلہ کرو تو دیکھو کہ کس قدر صیغوں میں اختلاف اور بیان میں کمی بیشی ہے بلکہ بعض جگہ بظاہر معنوں میں بھی اختلاف ہے۔ایسا ہی قرآن نے بیان کیا ہے۔کہ ابراہیم کا باپ آزر تھا۔لیکن اکثر مفسر لکھتے ہیں کہ اس کا باپ کوئی اور تھانہ آزر۔اب اے نادان جلد تو بہ کر کہ تو نے پادریوں کی طرح قرآن پر بھی حملہ کر دیا۔( تریاق القلوب - ر- خ - جلد 15 صفحہ 569-568)