حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 394
394 اللہ جل شانہ مومنوں کو قرآن شریف میں فرماتا ہے فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النحل : 44) یعنی فلاں فلاں باتیں اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم بے خبر ہو۔پس ظاہر ہے کہ اگر ہر ایک بات میں پہلی کتابوں کی گواہی ناجائز ہوتی تو خدا تعالیٰ کیوں مومنوں کو فر ما تا کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔بلکہ اگر نبیوں کی کتابوں سے کچھ فائدہ اٹھانا حرام ہے تو اس صورت میں یہ بھی ناجائز ہوگا کہ ان کتابوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بطور استدلال پیشگوئیاں پیش کریں حالانکہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد ان کے تابعین بھی ان پیشگوئیوں کو بطور حجت پیش کرتے رہے ہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کتب سابقہ کے بیان تین قسم کے ہیں۔(۱) ایک تو وہ باتیں ہیں جو واجب التصدیق ہیں جیسا کہ خدا کی تو حید اور ملا یک کا ذکر اور بہشت و دوزخ کے وجود کی نسبت بیان اگر ان کا انکار کریں تو ایمان جائے۔(۲) دوسری وہ باتیں ہیں جو رد کرنے کے لائق ہیں جیسا کہ وہ تمام امور جو قرآن شریف کے مخالف ہیں۔(۳) تیسری قسم کی وہ باتیں ہیں جو قرآن شریف میں اگر چہ ان کا ذکر مفصل نہیں مگر وہ باتیں قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو بالکل مطابق ہیں جیسے مثلاً یا جوج ماجوج کی قوم کہ اجمالی طور پر ان کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے بلکہ یہ ذکر بھی موجود ہے کہ آخری زمانہ میں تمام زمین پر انکا غلبہ ہو جائیگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَهُمْ مِنْ كُلَّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ (الانبیاء : 97) (چشمه معرفت۔ر۔خ۔جلد 23 صفحہ 84-83 حاشیہ)