حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 384 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 384

384 کوئی چیز اس کی مثل نہیں کیونکہ اس کے الفاظ اور ترتیب اور محفوظیت تامہ کا اہتمام خدائے تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور ماسوا اس کے حدیث ہو یا قول کسی صحابی کا ہو ان سب کا اہتمام انسانوں نے کیا ہے جو سہو اور نسیان سے بری نہیں رہ سکتے اور ہرگز وہ لوگ محفوظیت تامہ اور صحت کاملہ میں احادیث اور اقوال کو مثل قرآن نہیں بنا سکتے تھے اور یہ عجز ان کا اس آیت کریمہ کے اعجازات پیش کردہ میں داخل ہے قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوْا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهِ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا۔(بنی اسرائیل: 89) جب ہر ایک بات میں مثل قرآن ممتنع ہے تو کیونکر وہ لوگ احادیث کو صحت اور محفوظیت میں مثل قرآن بنا سکتے ہیں۔(ازالہ اوہام - رخ- جلد 3 صفحہ 616-615) جمال وحسن قرآن نورِ جانِ ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر لولوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت۔یہاں درماندگی۔فرق نمایاں ہے ( در مشین اردو صفحہ 362 ) ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 198 تا 201) سحضرت پر سب سے اعلیٰ وحی کی تجلی ہوئی وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ طَ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔(الشورى: 52) إِنَّهُ مُعْجِزَةٌ لَا يَأْتِي بِمِثْلِهِ اَحَدٌ مِنَ الْإِنْسِ وَالْجَانِّ وَ إِنَّهُ جَمَعَ مَعَارِفَ وَمَحَاسِنَ لَا يَجْمَعُهَا عِلْمُ الْإِنْسَانِ بَلْ إِنَّهُ وَحْيٌ لَيْسَ كَمِثْلِهِ غَيْرُهُ وَ إِنْ كَانَ بَعْدُهُ وَحْيَا آخَرَ مِنَ الرَّحْمَانِ فَإِنَّ لِلَّهِ تَجَلِيَاتٍ فِي إِبْحَائِهِ وَ إِنَّهُ مَا تَجَلَّى مِنْ قَبْلُ وَ لَا يَتَجَلَّى مِنْ بَعْدُ كَمِثْلِ تَجَلَّيْهِ لِخَاتَمِ الْأَنْبِيَاءِ وَ لَيْسَ شَانُ وَحْيِ الْأَوْلِيَاءِ كَمِثْلِ شَانٍ وَحْيِ الْفُرْقَانِ وَ اِنْ اُوْحِيَ إِلَيْهِمْ كَلِمَةٌ كَمِثْلِ كَلِمَاتِ الْقُرْآنِ۔فَإِنَّ دَائِرَةَ مَعَارِفَ الْقُرْآنِ أَكْبَرُ الدَّوَائِرِ وَإِنَّهَا أَحَاطَ الْعُلُوْمَ كُلَّهَا وَجَمَعَ فِي نَفْسِهَا أَنْوَاعَ السَّرَائِرِ وَ بَلَغَتْ دَقَائِقُهَا إِلَى الْمَقَامِ الْعَمِيْقِ الْغَائِرِ وَ سَبَقَ الْكُلَّ بَيَانًا وَّ بُرْهَانًا وَ زَادَ عِرْفَانًا۔وَإِنَّهُ كَلَامُ اللَّهِ الْمُعْجِزُ مَا قَرَعَ مِثْلُهُ اذَانًا وَلَا يَبْلُغُهُ قَوْلُ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ شَانًا۔