حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 378 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 378

378 إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَوَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ۔(الحجر: 10) بیشک ہم نے ہی اس ذکر ( قرآن شریف ) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔قرآن شریف کی حفاظت کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ توریت یا کسی اور کتاب کے لئے نہیں اسی لئے ان کتابوں میں انسانی چالاکیوں نے اپنا کام کیا۔قرآن شریف کی حفاظت کا یہ بڑاز بر دست ذریعہ ہے کہ اس کی تاثیرات کا ہمیشہ تازہ بتازہ ثبوت ملتا رہتا ہے اور یہود نے چونکہ توریت کو بالکل چھوڑ دیا ہے اور ان میں کوئی اثر اور قوت باقی نہیں رہی جو ان کی موت پر دلالت کرتی ہے۔سوال نمبر 2:۔براہین احمدیہ میں آپ نے کلام الہی کی ایک نشانی یہ بھی لکھی ہے کہ وہ ہر ایک پہلو میں دوسری کلاموں سے افضل ہوتا ہے۔توریت انجیل بھی تو خدا تعالیٰ کا کلام ہیں کیا ان میں بھی یہ وصف پایا جاتا ہے؟ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 450 ) حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ان کتابوں کی نسبت قرآن مجید میں يُحْرِفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه (المائدة: 14) لکھا ہے وہ لوگ شرح کے طور پر اپنی طرف سے بھی کچھ ملادیا کرتے تھے۔اس لیے جو کتابیں محرف مبدل ہو چکی ہیں ان میں یہ نشانی کب مل سکتی ہے؟ اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ حضور توریت میں لکھا ہے ” پھر موسیٰ خدا کا بندہ مر گیا اور موسیٰ جیسا نہ کوئی پیدا ہوا نہ ہوگا اور اس کی قبر بھی آج تک کوئی نہیں جانتا تو یہ کلام حضرت موسیٰ کی ہو ہی کس طرح سکتی ہے اور انجیل کی نسبت تو عیسائی خود قائل ہیں کہ وہ اصلی جو عیسی کی انجیل تھی نہیں ملتی۔یہ سب تراجم در تراجم ہیں اور ترجمے مترجم کے اپنے خیالات کے مطابق ہوا کرتے ہیں۔اور ان میں بہت سا حصہ اس قسم کا پایا جاتا ہے جو دوسروں کا بیان ہے جیسے صلیب کا واقعہ وغیرہ۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ :۔یہ ٹھیک بات ہے۔اگر تمام دنیا میں تلاش کریں تو قرآن مجید کی طرح خالص اور محفوظ کلام الہی کبھی نہیں مل سکتا بالکل محفوظ اور دوسروں کی دست برد سے پاک کلام تو صرف قرآن مجید ہی ہے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 338) شکر خدائے رحماں ! جس نے دیا ہے قرآں غنچے تھے سارے پہلے اب گل کھلا یہی ہے کیا وصف اس کے کہنا ہر حرف اس کا گہنا دلبر بہت ہیں دیکھے دل لے گیا یہی ہے دیکھی ہیں سب کتابیں مجمل ہیں جیسی خواہیں خالی ہیں ان کی قابیں خوان ہدی یہی ہے اس نے خدا ملایا وہ یار اس سے پایا راتیں تھیں جتنی گذریں اب دن چڑھا یہی ہے اس نے نشاں دکھائے طالب سبھی بلائے سوتے ہوئے جگائے بس حق نما یہی ہے پہلے صحیفے سارے لوگوں نے جب بگاڑے دنیا سے وہ سدھارے نوشہ نیا یہی ہے کہتے ہیں حسنِ یوسف دلکش بہت تھا۔لیکن خوبی و دلبری میں سب سے سوا یہی ہے ( در ثمن اردو صفحہ 76 ) ( قادیان کے آریہ اور ہم۔رخ۔جلد 20 صفحہ 455 )