حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 377
377 دیگر صحف سماوی محرف مبدل ہیں قرآن شریف نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ وہ انجیل یا توریت سے صلح کر یگا بلکہ ان کتابوں کو شرف مبدل اور ناقص اور نا تمام قرار دیا ہے اور تاج خاص أكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدہ: 4) کا اپنے لئے رکھا ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں انجیل توریت قرآن شریف کے مقابل پر کچھ بھی نہیں اور ناقص اور محرف اور مبدل ہیں اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔( دافع البلاء صفحہ 19 - ر- خ - جلد 18 صفحہ 239) مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيَّا بِالْسِنَتِهِمْ وَطَعْنَا فِي الذِيْنِ وَ لَوْأَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَكِنْ لَّعَنَهُمُ اللهِ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ إِلَّا قَلِيْلاً۔(النساء: 47) یہودی بھی تو ایسے ہی کام کرتے تھے کہ اپنی رائے سے اپنی تفسیروں میں بعض آیات کے معنے کرنے کے وقت بعض الفاظ کو مقدم اور بعض کو مؤخر کر دیتے تھے جن کی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت موجود ہے کہ يُحَرِّفُونَ الكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ (المائدہ: 14) ان کی تحریف ہمیشہ لفظی نہیں تھی بلکہ معنوی بھی تھی۔سوایسی تحریفوں سے ہر یک مسلمان کو ڈرنا چاہیئے۔الحق دہلی۔۔۔خ۔جلد 4 صفحہ 215) دجل یہ ہے کہ اندر ناقص چیز ہو اور اوپر کوئی صاف چیز ہو۔مثلاً او پرسونے کا ملمع ہو اور اندر تانبہ ہو۔یہ دجل ابتدائے دنیا سے چلا آتا ہے مکر و فریب سے کوئی زمانہ خالی نہیں رہا۔زرگر کیا کرتے ہیں۔جیسے دنیا کے کاموں میں دجل ہے ویسے ہی روحانی کاموں میں بھی دجل ہوتا ہے۔يُحْرِفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ (النساء: 47) بھی دجل ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 295 ان کتابوں توریت اور انجیل) کی نسبت قرآن مجید میں يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعه(المائدہ: 14) لکھا ہے وہ لوگ شرح کے طور پر اپنی طرف سے بھی کچھ ملا دیا کرتے تھے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 338)