حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 10 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 10

10 حضرت اقدس قرآن کریم کے شارح ہیں مسیح ناصری شارح تو ریت اور مسیح موعود شارح قرآن ہے پوچھا گیا کہ عیسائی لوگ تو ریت کو نہیں مانتے۔انجیل کو ہی مانتے ہیں۔فرمایا: - ذرا جھیل میں ہرگز کوئی شریعت نہیں ہے بلکہ توریت کی شرح ہے اور عیسائی لوگ توریت کو الگ نہیں کرتے جیسے مسیح توریت کی شرح بیان کرتے تھے۔اسی طرح ہم بھی قرآن شریف کی شرح بیان کرتے ہیں۔جیسا کہ وہ میچ موسیٰ علیہ السلام سے چودہ سو برس بعد آئے تھے۔اسی طرح ہم بھی پیغمبر خدا ﷺ کے بعد چودھویں صدی میں ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 666) آئے ہیں۔" حضرت عیسی علیہ السلام کی مماثلت میں قرآن کریم کی صحیح تعلیم کو بھی پیش کرنا ضروری تھا علاوہ اس کے خدائے تعالیٰ نے اسی غرض سے اس عاجز کو بھیجا ہے کہ تا روحانی طور پر مردے زندہ کئے جائیں۔بہروں کے کان کھولے جائیں اور مجذوموں کو صاف کیا جائے اور وہ جو قبروں میں ہیں باہر نکالے جائیں اور نیز یہ بھی وجہ مماثلت ہے کہ جیسے مسیح بن مریم نے انجیل میں توریت کا صحیح خلاصہ اور مغز اصلی پیش کیا تھا اسی کام کے لئے یہ عاجز مامور ہے تا غافلوں کے سمجھانے کے لئے قرآن شریف کی اصلی تعلیم پیش کی جائے۔مسیح صرف اسی کام کے لئے آیا تھا کہ توریت کے احکام شدومد کے ساتھ ظاہر کرے۔ایسا ہی یہ عاجز بھی اسی کام کیلئے بھیجا گیا ہے کہ تا قرآن شریف کے احکام بہ وضاحت بیان کر دیوے۔(ازالہ اوھام۔رخ جلد 3 صفحہ 103) میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا تا دیں کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح سے وہ شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیا تھا جس کی روح ہیروڈلیس کے عہد حکومت میں بہت تکلیفوں کے بعد آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہیں کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ 66 ی انسان کی بات نہیں خدا تعالیٰ کا الہام اور رب جلیل کا کلام ہے۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 9-8) حضرت اقدس علیہ السلام قرآن کریم کے وارث ہیں اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جب کہ مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کیلئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے۔اس وجہ سے کہ ہمارا آقا اور مخدوم تمام دنیا کیلئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں جو اس بوجھ کے اٹھانے کیلئے ضروری تھیں اور وہ معارف اور نشان بھی دیئے گئے ہیں جن کا دیا جانا اتمام حجت کیلئے مناسب وقت تھا۔مگر ضروری نہ تھا کہ حضرت عیسی کو وہ معارف اور نشان دیئے جاتے کیونکہ اس وقت ان کی ضرورت نہ تھی اس لئے حضرت عیسی کی سرشت کو صرف وہ قو تیں اور طاقتیں دی گئی جو یہودیوں کے ایک تھوڑے سے فرقہ کی اصلاح کیلئے ضروری تھیں اور ہم قرآن شریف کے وارث ہیں جس کی تعلیم جامع تمام کمالات ہے اور تمام دنیا کیلئے ہے۔مگر حضرت عیسیٰ صرف توریت کے وارث تھے جس کی تعلیم ناقص اور مختص القوم ہے اسی وجہ سے انجیل میں ان کو وہ باتیں تاکید کے ساتھ بیان کرنی پڑیں جو توریت میں مخفی اور مستور تھیں لیکن قرآن شریف سے ہم کوئی امر زیادہ بیان نہیں کر سکتے کیونکہ اس کی تعلیم اتم اور اکمل ہے اور وہ توریت کی طرح کسی انجیل کا محتاج نہیں۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 155)