حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 322 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 322

322 نزول قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں ہوا ؟ وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمِ۔أَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا نَضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ (الزخرف :33-32) کفار کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کے بڑے بڑے مالداروں اور رئیسوں میں سے کسی بھاری رئیس اور دولت مند پر کیوں نازل نہ ہوا تا اس کی رئیسانہ شان کے شایاں ہوتا اور نیز اس کے رعب اور سیاست اور مال خرچ کرنے سے جلد تر دین پھیل جاتا۔ایک غریب آدمی جس کے پاس دنیا کی جائیداد میں سے کچھ بھی نہیں کیوں اس عہدے سے ممتاز کیا گیا پھر آگے بطور جواب فرمایا اهم يقسمون رحمت ربک کیا قسام ازل کی رحمتوں کا تقسیم کرنا ان کا اختیار ہے یعنی یہ خداوند حکیم مطلق کا فعل ہے کہ بعضوں کی استعداد میں اور ہمتیں پست رکھیں اور وہ زخارف دنیا میں پھنسے رہے اور رئیس اور امیر اور دولت مند کہلانے پر پھولتے رہے اور اصل مقصود کو بھول گئے اور بعض کو فضائل روحانیت اور کمالات قدسیہ عنایت فرمائے اور وہ اس محبوب حقیقی کی محبت میں محو ہو کر مقرب بن گئے اور مقبولان حضرت احدیت ہو گئے۔( براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 204 حاشیہ) وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْياً۔(الشورى:52) ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے جیسے حضرت موسی علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی سوانجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج بغایت درجہ وضع استقامت پر واقع تھا۔نہ ہر جگہ علم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقع کے ملوظ طبیعت مبارک تھی۔سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزوں و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت ورحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 193 حاشیہ)