حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 320
320 دوسری فصل انداز نزول قرآن وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنَهُ تَرْتِيلاً۔(الفرقان:33 ) کافر کہتے کہ کیوں قرآن ایک مرتبہ ہی نازل نہ ہوا۔ایسا ہی چاہئے تھا تا وقتا فوقتا ہم تیرے دل کو تسلی دیتے رہیں اور تا وہ معارف اور علوم جو وقت سے وابستہ ہیں اپنے وقت پر ہی ظاہر ہوں کیونکہ قبل از وقت کسی بات کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے سواس مصلحت سے خدا نے قرآن شریف کو تئیس برس تک نازل کیا تا اس مدت تک موعودنشان بھی ظاہر ہو جائیں۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 357) معارف قرآن کا نزول تدریجی ہے یہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ وہ دابتہ الارض یعنی طاعون کا کیڑا زمین میں سے نکلے گا اس میں یہی بھید ہے کہ تاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ اس وقت نکلے گا کہ جب مسلمان اور ان کے علماء زمین کی طرف جھک کر خود دابتہ الارض بن جائیں گے۔ہم اپنی بعض کتابوں میں یہ لکھ آئے ہیں کہ اس زمانہ کے ایسے مولوی اور سجادہ نشین جو تقی نہیں ہیں اور زمین کی طرف جھکے ہوئے ہیں یہ دابتہ الارض ہیں اور اب ہم نے اس رسالہ میں یہ لکھا ہے کہ دابتہ الارض طاعون کا کیڑا ہے۔ان دونوں بیانوں میں کوئی شخص تناقض نہ سمجھے۔قرآن شریف ذوالمعارف ہے اور کئی وجوہ سے اس کے معنے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد نہیں اور جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اترا اسی طرح اس کے معارف بھی دلوں پر یک دفعہ نہیں اترتے۔اسی بناء پر متفقین کا یہی مذہب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معارف بھی یک دفعہ آپ کو نہیں ملے بلکہ تدریجی طور پر آپ نے علمی ترقیات کا دائرہ پورا کیا ہے ایسا ہی میں ہوں جو بروزی طور پر آپ کی ذات کا مظہر ہوں۔آنحضرت کی تدریجی ترقی میں سر یہ تھا کہ آپ کی ترقی کا ذریعہ محض قرآن تھا۔پس جبکہ قرآن شریف کا نزول تدریجی تھا اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل معارف بھی تدریجی تھی اور اس قدم پرمسیح موعود ہے جو اس وقت تم میں ظاہر ہوا علم غیب خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے جس قد روہ دیتا ہے اسی قدر ہم لیتے ہیں۔( نزول اسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 421)