حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 319 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 319

319 حضرت اقدس نے دوسری قرأت اختیار فرمائی لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ (التوبه : 128 ) انفس کے لفظ میں ایک قرآت زبر کے ساتھ ہے یعنی حرف فا کی فتح کے ساتھ اور اسی قرآت کو ہم اس جگہ ذکر کرتے ہیں اور دوسری قرأت بھی یعنی حرف فا کے پیش کے ساتھ بھی اس کے ہم معنی ہے۔کیوں کہ خدا قریش کو مخاطب کرتا ہے کہ تم جو ایک بڑے خاندان میں سے ہو۔یہ رسول بھی تو تمہیں میں سے ہے یعنی عالی خاندان ہے۔تریاق القلوب۔رخ جلد 15 صفحہ 281 حاشیہ ) قرآت ثانیہ کی حکمت غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ (الروم: 3-4) یہ آیت اول اس موقع پر نازل ہوئی جبکہ کسری شاہ ایران نے بعض حدود پر لڑائی کر کے قیصر شاہ روم کو مغلوب کر دیا تھا پھر جب اس پیشگوئی کے مطابق بضع سنین میں قیصر روم شاہ ایران پر غالب آ گیا تو پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ الخ جس کا مطلب یہ تھا کہ رومی سلطنت اب تو غالب آ گئی ہے مگر پھر بضع سِنِيْنَ میں اسلام کے ہاتھ سے مغلوب ہوں گے مگر باوجود اس کے کہ دوسری قرأت میں غلبت کا صیغہ ماضی معلوم تھا اور سَيَغْلِبُونَ کا صیغہ مضارع مجہول تھا مگر پھر بھی پہلی قرآت جس میں غُلِبَت کا صیغہ ماضی مجہول تھا اور سَيَغْلِبُونَ مضارع معلوم تھا منسوخ استلاوت نہیں ہوئی بلکہ اسی طرح جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن شریف سناتے رہے جس سے اس سنت اللہ کے موافق جو قرآن شریف کے نزول میں ہے یہ ثابت ہوا کہ ایک مرتبہ پھر مقدر ہے کہ عیسائی سلطنت روم کے بعض حدود کو پھر اپنے قبضہ میں کرلے گی۔اسی بناء پر احادیث میں آیا ہے کہ مسیح کے وقت میں سب سے زیادہ دنیا میں روم ہوں گے یعنی نصاری۔اس تحریر سے ہماری غرض یہ ہے کہ قرآن اور احادیث میں روم کا لفظ بھی بروزی طور پر آیا ہے یعنی روم سے اصل روم مراد نہیں ہیں بلکہ نصاری مراد ہیں۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 308-307)