حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 317 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 317

317 غلط اور نا پاک تلاوت قرآن وَامِنُوْا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِا يتِيْ ثَمَنًا قَلِيْلاً وَ إِيَّايَ فَاتَّقُوْنِ۔(البقره:42) خدا تعالیٰ کے پاک کلام قرآن کو نا پاک باتوں سے ملا کر پڑھنا بے ادبی ہے وہ تو صرف روٹیوں کی غرض سے ملاں لوگ پڑھتے ہیں اس ملک کے لوگ ختم و غیرہ دیتے ہیں تو ملاں لوگ لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہیں کہ شور با اور روٹی زیادہ ملے وَلَا تَشْتَرُوا بِايَاتِي ثَمَنًا قَلِيلاً یہ کفر ہے جو طریق آج کل پنجاب میں نماز کا ہے میرے نزدیک ہمیشہ سے اس پر بھی اعتراض ہے۔ملاں لوگ صرف مقررہ آدمیوں پر نظر کر کے جماعت کراتے ہیں۔ایسا امام شرعا نا جائز ہے۔صحابہ میں کہیں نظیر نہیں ہے کہ اس طرح اجرت پر امامت کرائی ہو پھر اگر کسی کو مسجد سے نکالا جاوے تو چیف کورٹ تک مقدمہ چلتا ہے یہاں تک کہ ایک دفعہ ایک ملانے نماز جنازہ کی 6 تا 7 تکبیریں کہیں لوگوں نے پوچھا تو جواب دیا کہ یہ کام روز مرہ کے محاورہ سے یاد رہتا ہے۔کبھی سال میں ایک آدمی مرتا ہے تو کیسے یاد رہے۔جب مجھے یہ بات بھول جاتی ہے کہ کوئی مرا بھی کرتا ہے تو اس وقت کوئی میت ہوتی ہے اسی طرح ایک ملا یہاں آ کر رہا ہمارے میرزا صاحب نے اسے محلے تقسیم کر دیئے ایک دن وہ روتا ہوا آیا کہ مجھے جو محلہ دیا ہے اس کے آدمیوں کے قد چھوٹے ہیں اس لئے ان کے مرنے پر جو کپڑا ملے گا اس سے چادر بھی نہ بنے گی۔اس وقت ان لوگوں کی حالت بہت ردی ہے صوفی لکھتے ہیں کہ مردہ کا مال کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 159-158)