حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 314 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 314

314 تلاوت قرآن خوش الحانی سے کرنا سوال۔خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا کیسا ہے؟ حضرت اقدس۔خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنا بھی عبادت ہے اور بدعات جو اس کے ساتھ ملا لیتے ہیں وہاں عبادت کو ضائع کر دیتی ہیں۔بدعات نکال نکال کر ان لوگوں نے کام خراب کیا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 162 حاشیہ ) قرآن شریف کو بھی خوش الحانی سے پڑھنا چاہیئے۔بلکہ اس قدر تاکید ہے کہ جوشخص قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اور خود اس میں ایک اثر ہے۔عمدہ تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔وہی تقریر ژولیدہ زبانی سے کی جائے تو اس میں کوئی اثر نہیں ہوتا۔جس شئے میں خدا تعالیٰ نے تاثیر رکھی ہے اس کو اسلام کی طرف کھینچنے کا آلہ بنایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔حضرت داؤد کی زبور گیتوں میں تھی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب حضرت داؤ د خدا تعالیٰ کی مناجات کرتے تھے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ روتے تھے اور پرندے بھی تسبیح کرتے تھے۔( ملفوظات چهارم صفحہ 524) کیا آنحضرت نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا تھا؟ اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار پر پڑھتے ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش الحانی سے قرآن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے۔جب یہ آیت و جئنا بک على هؤلاء شهيدا ( النساء:42) آپ روئے اور فرمایا بس کر میں آگے نہیں سن سکتا۔آپ کو اپنے گواہ گذرنے پر خیال گذرا ہوگا۔ہمیں خود خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں۔آنحضرت نے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہیئے۔سچے مومن کے واسطے کافی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے کہ نہیں۔اگر نہیں کیا تو کرنے کا حکم دیا ہے یا نہیں ؟ حضرت ابراہیم آپ کے جد امجد تھے اور قابل تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے انکا مولود نہ کروایا؟ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 162-161 ) تلاوت قرآن کریم اور اعمال صالحہ انسان کا کام تو یہ ہے کہ جو کچھ منہ سے کہتا ہے اس کو سوچ کر کہے اور پھر اس کے موافق عمل درآمد بھی کرئے لیکن اگر طوطے کی طرح بولتا جاتا ہے تو یاد رکھو ری زبان سے کوئی برکت نہیں ہے۔جب تک دل سے اس کے ساتھ نہ ہو اور اس کے موافق اعمال نہ ہوں۔وہ نری باتیں سمجھی جائیں گی جن میں کوئی خوبی اور برکت نہیں کیونکہ وہ نرا قول ہے خواہ قرآن شریف اور استغفار ہی کیوں نہ پڑھتا ہو۔خدا تعالیٰ اعمال چاہتا ہے اس لیے بار بار یہی حکم دیا کہ اعمال صالحہ کرو۔جب تک یہ نہ ہو خدا کے نزدیک نہیں جاسکتے۔بعض نادان کہتے ہیں کہ آج ہم نے دن بھر میں قرآن ختم کر لیا ہے لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اس سے کیا فائدہ ہوا؟۔نری زبان سے تم نے کام لیا مگر باقی اعضاء کو بالکل چھوڑ دیا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمام اعضاء اس لئے بنائے ہیں کہ ان سے کام لیا جاوے۔یہی وجہ کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت کرتا ہے کیونکہ ان کی تلاوت نرا قول ہی قول ہوتا اور اس پر عمل نہیں ہوتا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 611)