حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 302
302 یعنی جو عقدے شریعت محمدیہ میں قابل حل ہیں اور جو ایسے مشکلات اور معضلات ہیں جن پر جاہل مخالف اعتراض کرتے ہیں اور ذریعہ تکذیب دین ٹھیراتے ہیں ان پر اور بھی عناد کی وجہ سے پھونکیں مارتے ہیں یعنی شریر لوگ اسلامی دقیق مسائل کو جو ایک عقدہ کی شکل پر ہیں دھوکہ دہی کے طور پر ایک پیچیدہ اعتراض کی صورت پر بنا دیتے ہیں تا لوگوں کو گمراہ کریں۔ان نظری امور پر اپنی طرف سے کچھ حاشیے لگا دیتے ہیں اور یہ لوگ دو قسم کے ہیں۔ایک تو صریح مخالف اور دشمن دیں ہیں جیسے پادری جو ایسی تراش خراش سے اعتراض بناتے رہتے ہیں۔اور دوسرے وہ علماء اسلام ہیں جو اپنی غلطی کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور نفسانی پھونکوں سے خدا کے فطری دین میں عقدے پیدا کر دیتے ہیں اور زنانہ خصلت رکھتے ہیں کہ کسی مرد خدا کے سامنے میدان میں نہیں آسکتے صرف اپنے اعتراضات کو تحریف تبدیل کی پھونکوں سے عقدہ لا یخل کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح پر زیادہ تر مشکلات خدا کے مصلح کی راہ میں ڈال دیتے ہیں۔وہ قرآن کے مکذب ہیں کہ اس کی منشاء کے برخلاف اصرار کرتے ہیں۔اور اپنے ایسے افعال سے جو مخالف قرآن ہیں اور دشمنوں کے عقائد سے ہمرنگ ہیں دشمنوں کو مدددیتے ہیں۔پس اس طرح ان عقدوں میں پھونک مار کر انکولا نیحل بنانا چاہتے ہیں۔پس ہم ان کی شرارتوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور نیز ہم ان لوگوں کی شرارتوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں جو حسد کرتے اور حسد کے طریقے سوچتے ہیں اور ہم اس وقت سے پناہ مانگتے ہیں جب وہ حسد کرنے لگیں۔اور کہو کہ تم یوں دعا مانگا کرو کہ ہم وسوسہ انداز شیطان کے وسوسوں سے جولوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کو دین سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے کبھی بطور خود اور کبھی کسی انسان میں ہو کر۔خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحه 220 تا 222)