حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 294
294 تَبَّتْ يَدَآ أَبِي لَهَبٍ وَّ تَب جو قرآن شریف کے آخر میں ہے آیت مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی ایک شرح ہے جو قرآن شریف کے اول میں ہے کیونکہ قرآن شریف کے بعض حصے بعض کی تشریح ہیں۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 216 تا 217) سورة الاخلاص اس سورت میں مسیح موعود کی آمد اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی ہے قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ ه اللهُ الصَّمَدُ ه لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ ، وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ (2 تا 5) قرآن نے اپنے اول میں بھی مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اور ضالین کا ذکر فرمایا ہے۔اور اپنے آخر میں بھی جیسا کہ آیت لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کیلئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تا مسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اٹھے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 222) دجال یعنی آخری مظہر شیطان کا ذکر قرآن کے اول و آخر میں آخری مظہر شیطان کے اسم دجال کا جو مظہر اتم اور اکمل اور خاتم المظا ہر ہے وہ قوم ہے جس کا قرآن کے اول میں بھی ذکر ہے اور قرآن کے آخر میں بھی یعنی وہ ضالین کا فرقہ جس کے ذکر پر سورۃ فاتحہ ختم ہوتی ہے اور پھر قرآن شریف کی آخری تین سورتوں میں بھی اس کا ذکر ہے یعنی سورۃ اخلاص اور سورہ فلق اور الناس میں سورہ اخلاص میں تو اس قوم کی اعتقادی حالت کا بیان ہے جیسا کہ فرمایا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَاللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ہ یعنی خدا ایک ہے اور احد ہے یعنی اس میں کوئی ترکیب نہیں نہ کوئی اس کا بیٹا اور نہ وہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پس اس سورت میں تو اس قوم کے عقائد بتلائے گئے۔تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 269 تا 270 حاشیہ) الضالین کے مقابل آخر کی تین سورتیں ہیں۔اصل تو قُلْ هُوَ الله ہے اور باقی دونوں سورتیں اس کی شرح ہیں۔قُلْ هُوَ الله کا ترجمہ یہ ہے کہ نصاری سے کہہ دو کہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 169) وہ اپنی ذات میں نظیر اور مثیل سے پاک اور منزہ ہے۔۔۔۔دونوں سورتوں (اخلاص اور فلق ) میں ایک