حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 283
283 بڑے زلزلہ کے وقت میں کہ جب ساری زمین تہ و بالا ہو جائیگی ایسے کا فرکہاں زندہ رہیں گے؟ جو زمین سے اس کے حالات استفسار کریں گے کیا ممکن ہے کہ زمین تو ساری کی ساری زیر وزبر ہو جائے یہاں تک کہ اوپر کا طبقہ اندر اور اندر کا طبقہ باہر آ جائے اور پھر لوگ زندہ بیچ رہیں بلکہ اس جگہ زمین سے مرادزمین کے رہنے والے ہیں اور یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کی باطنی قومی مراد ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الاَرضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔(الحدید:18) اور جیسا کہ فرماتا ہے وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا (الاعراف:59) ایسا ہی قرآن شریف میں بیسیوں نظیر میں موجود ہیں جو پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ماسوا اس کے روحانی واعظوں کا ظاہر ہونا اور ان کے ساتھ فرشتوں کا آنا ایک روحانی قیامت کا نمونہ ہوتا ہے جس سے مردوں میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور جو قبروں کے اندر ہیں وہ باہر آ جاتے ہیں اور نیک اور بدلوگ اپنی سزاو جزا پالیتے ہیں۔سواگر سورہ الزلزال کو قیامت کے آثار میں قرار دیا جائے تو اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ایسا وقت روحانی طور پر ایک قسم کی قیامت ہی ہوتی ہے۔خدائے تعالیٰ کے تائید یافتہ بندے قیامت کا ہی روپ بن کر آتے ہیں اور انہیں کا وجو د قیامت کے نام سے موسوم ہوسکتا ہے جن کے آنے سے روحانی مردے زندہ ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نیز اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب ایسا زمانہ آجائے گا کہ تمام انسانی طاقتیں اپنے کمالات کو ظاہر کر دکھائیں گی اور جس حد تک بشری عقول اور افکار کا پرواز ممکن ہے اس حد تک وہ پہنچ جائیں گی اور جن مخفی حقیقتوں کو ابتدا سے ظاہر کرنا مقدر ہے وہ سب ظاہر ہو جائیں گی تب اس عالم کا دائرہ پورا ہو کر یک دفعہ اس کی صف لیپٹ دی جائے گی۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ - وَّ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوالْجَلَلِ وَالْاِ كُرَام (الرحمن: 2827) (ازالہ اوہام رخ جلد 3 صفحہ 161 169) ان آیات میں یعنی إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا۔میں حقیقت میں اسی دجالی زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس کو ذرہ بھی عقل ہو وہ سمجھ سکتا ہے اور یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ وہ قوم ارضی علوم میں کہاں تک ترقی کرے گی۔شہادت القرآن - رخ جلد 6 صفحہ 317) اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ - حضرت اقدس کے وقت کے لئے مخصوص تھا آج جو أَخْرَجَتِ الْاَرْضُ أَثْقَالَهَا۔کا زمانہ ہے یہ سیح موعود ہی کے وقت کے لئے مخصوص تھا چنانچہ اب دیکھو کہ کس قدر ایجادیں اور نٹی کا نیں نکل رہی ہیں۔ان کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی ہے۔میرے نزدیک طاعون بھی اسی میں داخل ہے، اس کی جڑ زمین میں ہے۔پہلا اثر چوہوں پر ہوتا ہے۔غرض اس وقت جبکہ زمینی علوم کمال تک پہنچ رہے ہیں تو ہین اسلام کی حد ہو چکی ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ اس پچاس ساٹھ سال میں جس قدر کتابیں اخبار رسالے تو ہین اسلام میں شائع ہوئے ہیں کبھی ہوئے تھے۔پس جب نوبت یہاں تک پہنچ چکی