حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 248
248 دخان سے مراد حضرت اقدس کے زمانہ کا حال ہے فَارُ تَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانِ مُّبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ اليم O (الدخان: 1211) اور روحانی طور پر صداقت اور امانت اور دیانت کا قحط ہو گیا اور مکر اور فریب اور علوم فنون مظلمہ دُخان کی طرح دنیا میں پھیل گئی ہیں اور روز بروز ترقی پر ہیں۔اس زمانہ کے مفاسد کی صورت پہلے زمانوں کے مفاسد سے بالکل مختلف ہے۔پہلے زمانوں میں اکثر نادانی اور امیت رہزن تھی۔اس زمانہ میں تحصیل علوم رہزن ہو رہی ہے ہمارے زمانہ کی نئی روشنی جس کو دوسرے لفظوں میں دُخان سے منسوب کرنا چاہیئے عجیب طور پر ایمان اور دیانت اور اندرونی سادگی کو نقصان پہنچارہی ہے۔سوفسطائی تقریروں کے غبار نے صداقت کے آفتاب کو چھپادیا ہے اور فلسفی مغالطات سادہ لوحوں کو طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیا ہے۔خیالات باطلہ کی تعظیم کی جاتی ہے اور حقیقی صداقتیں اکثر لوگوں کی نظر میں کچھ حقیر سی معلوم ہوتی ہیں۔سوخدا تعالیٰ نے چاہا کہ عقل کے رہزدوں کو عقل سے درست کرے اور فلسفہ کے سرگشتوں کو آسانی فلسفہ کے زور سے راہ پر لاوے۔سو یہ کامل درجہ کا دُخان مبین ہے جو اس زمانہ میں ظاہر ہوا ہے۔(ازالہ اوہام حصہ دوم۔رخ جلد 3 صفحہ 376) امر حکیم سے مراد معارف الہیہ کا ظہور ہے اس روشن اور کھلی کھلی کتاب کی قسم ہے کہ ہم نے اس قرآن کریم کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے کیونکہ ہمیں منظور تھا کہ نافرمانی کے نتائج سے ڈرا دیں وہ رات ایک ایسی بابرکت رات ہے کہ تمام حکمت کی باتیں اس میں کھولی جاتی ہیں اور ایسا ہی ہم نے چاہا ہے اور تیرے رب نے رحمت کی راہ سے ایسا ہی ارادہ کیا ہے کہ کل معارف و دقائق الہیہ کا تیری بعثت مبارکہ پر ہی خاتمہ ہو اور وہی کلام کل معارف حکیمہ کا جامعہ ہو جو تجھ پر نازل ہوا ہے اور اس برکت والی رات سے مراد ایک تو وہی معانی ہیں جو مشہور ہیں اور دوسرے آنحضرت ﷺ کے زمانہ بعثت کی رات ہے اور اس کا دامن قیامت کے دن تک پھیلا ہوا ہے اور آیت فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ (الدخان: 5) میں اس بات کی طرف اشارہ ہے۔کہ وہ تمام زمانہ جو قیامت تک آنحضرت ﷺ کے عہد رسالت کے تحت میں ہے فیوض قرآن کریم سے بہت فائدہ اٹھائے گا اور وہ تمام معارف الہیہ جو دنیا میں مخفی چلے آتے ہیں اس زمانہ میں وقتا فوقتاً ظہور پذیر ہوتے رہیں گے۔اور نیز آیت فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس زمانہ بابرکت کے خواص میں سے یہ بھی ہوگا کہ معاش اور معاد کے کل علوم حکمیہ اپنے اعلیٰ درجہ کے کمالات کے ساتھ ظہور پذیر ہوں گے اور کوئی امر حکمت ایسا نہیں رہے گا جس کی تفصیل نہ کی جائے۔(ازالہ اوہام رخ جلد 3 صفحہ 375،374)