حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 247
247 اور اسی ضمن میں فرمایا:۔خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعدہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا ہے۔پس اسے کوئی مخالف آزمانے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے آگ ہرگز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے موافق بچالے گا۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں۔یہ طریق انبیاء کا نہیں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (القر 1960 ) پس ہم خود آگ میں دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہرگز نہ جلیں گے اس لئے میرا تو یہ ایمان ہے کہ ہمیں تکلف اور تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے خدا کے باطنی تصرفات ہیں ویسے ہی ظاہری بھی۔ہم مانتے ہیں بلکہ اسی لئے خدا نے اول ہی سے الہام کر دیا ہوا ہے کہ و آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے“۔حاصل ہو۔بجز اس طریق کے کہ خدا خود ہی تجلی کرے اور کوئی دوسرا طریق نہیں ہے جس سے اس ذات پر یقین کامل (ملفوظات جلد سوم صفحہ 479-480) ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے ( در شین اردو صفحہ 85 ) (حقیقت الوحی۔رخ - جلد 22 صفحہ 595) و لیلۃ القدر سے حضرت اقدس کا زمانہ مراد ہے حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَرَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ 0 فِيهَا يُفْرَقُ كُلَّ اَمْرٍ حَكِيمٍ أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا طَ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ هِ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ، إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (الدخان: 2 تا 7) نائب رسول ﷺ کے نزول کے وقت جو لیلتہ القدر مقرر کی گئی ہے وہ در حقیقت اس لیلتہ القدر کی ایک شاخ ہے یا یوں کہو کہ اس کا ایک ظل ہے جو آنحضرت ﷺ کوملی ہے خدا تعالیٰ نے اس لیلتہ القدر کی نہایت درجہ کی شان بلند کی ہے جیسا کہ اس کے حق میں یہ آیت کریمہ ہے کہ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ یعنی اس لیلۃ القدر کے زمانہ میں جو قیامت تک ممتد ہے ہر ایک حکمت اور معرفت کی باتیں دنیا میں شائع کر دی جائیں گی اور انواع و اقسام کے علوم غریبه وفنونِ نادرہ صناعات عجیبہ صفحہ عالم میں پھیلا دیئے جائیں گے اور انسانی قوئی میں موافق ان کی مختلف استعدادوں اور مختلف قسم کے امکان بسطت علم اور عقل کے جو کچھ لیا قتیں مخفی ہیں یا جہاں تک وہ ترقی کر سکتے ہیں سب کچھ بمنقہ ظہور لایا جائے گا لیکن یہ سب کچھ ان دنوں میں پر زور تحریکوں سے ہوتا رہے گا کہ جب کوئی نائب رسول ﷺ دنیا میں پیدا ہوگا۔در حقیقت اسی آیت کو سورۃ الزلزال میں مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ سورۃ الزلزال سے پہلے سورۃ القدر نازل کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا ہے کہ سنہ اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ خدائے تعالیٰ کا کلام لیلتہ القدر میں ہی نازل ہوتا ہے اور اسی کا نبی لیلتہ القدر میں ہی دنیا میں نزول فرماتا ہے اور لیلتہ القدر میں ہی وہ فرشتے اترتے ہیں جن کے ذریعہ سے دنیا میں نیکی کی طرف تحریکیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ضلالت کی پر ظلمت رات سے شروع کر کے طلوع صبح صداقت تک اسی کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتے ہیں۔(ازالہ اوہام۔رخ جلد 3 صفحہ 159-160)