حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 238 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 238

238 اصل بات یہ ہے کہ نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لئے نبی کو لاتا ہے اور اس کے قائم ہونے کے لئے ضرورت پیدا کرتا ہے اور سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً - (تجلیات الہیہ۔رخ جلد 20 صفحہ 400) عادت اللہ ہمیشہ سے اس طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں تب اس زمانہ میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے تب اس کا مبعوث ہونا دوسرے شریر لوگوں کی سزا دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں ایک محرک ہو جاتا ہے اور جو شخص اپنے گذشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے اس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 165-164) وَاسْتَفْتَحُوْا وخَابَ كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ۔(ابراهيم: 16) نبیوں نے اپنے تئیں مجاہدہ کی آگ میں ڈال کر فتح چاہی۔پھر کیا تھا ہر ایک ظالم سرکش تباہ ہو گیا اور اسی کی طرف اس شعر میں اشارہ ہے تا دل مرد خدا نامد بدرد بیچ قوم را خدا رسوا نکرد (حقیقۃ الوحی۔ر-خ- جلد 22 صفحہ 324) ہر نبی پہلے صبر کی حالت میں ہوتا ہے پھر جب ارادہ الہی کسی قوم کی تباہی سے متعلق ہوتا ہے تو نبی میں درد کی حالت پیدا ہوتی ہے۔وہ دعا کرتا ہے پھر اس قوم کی تباہی یا خیر خواہی کے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں۔دیکھو نوح علیہ السلام پہلے صبر کرتے رہے اور بڑی مدت تک قوم کی ایزائیں سہتے رہے پھر ارادہ الہی جب ان کی تباہی سے متعلق ہوا تو درد کی حالت پیدا ہوئی اور دل سے نکلا رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دیار (نوح: 27) جب تک خدا کا ارادہ نہ ہو وہ حالت پیدا نہیں ہوتی۔پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال پہلے صبر کرتے رہے پھر جب درد کی حالت پیدا ہوئی تو قتال کے ذریعے مخالفین پر عذاب نازل ہوا۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 199) عذاب سے مراد طاعون ہے رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ۔أَنَّى لَهُمُ الذِكْرَى وَقَدْ جَاءَ هُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ۔ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوا مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ۔إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ۔(الدخان: 13 تا 16) وہ وقت ایسا ہوگا کہ یہ بلاء روئے زمین پر عام ہوگی کوئی شہر یا بستی الا ماشاء اللہ اس سے خالی نہ رہے گی بلکہ دریاؤں اور جنگلوں میں بھی طاعون ہو گا اس وقت لوگ بھاگنے کی جگہ ڈھونڈیں گے مگر نہ پاویں گے۔(حقیقۃ الوحی - ر- خ - جلد 22 صفحہ 424-425)