حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 178 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 178

178 ان معنوں کے لئے یہ قرینہ کافی ہے کہ مغضوب علیہم صرف اُن یہودیوں کا نام ہے جنہوں نے حضرت مسیح کو ایزادی تھی اور حدیثوں میں آخری زمانہ کے علماء کا نام یہود رکھا گیا ہے یعنی وہ جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تکفیر و توہین کی تھی اور اس دعا میں ہے کہ یا الہی ہمیں وہ فرقہ مت بنا جن کا نام مغضوب علیہم ہے۔پس دعا کے رنگ یا بنا میں یہ ایک پیشگوئی ہے جو دو خبر پر مشتمل ہے۔ایک یہ کہ اس امت میں بھی ایک مسیح موعود پیدا ہوگا اور دوسری یہ پیشگوئی ہے کہ بعض لوگ اس امت میں سے اُس کی تکفیر اور توہین کریں گے اور وہ لوگ مور د غضب الہی ہوں گے اور اس وقت کا نشان یہ ہے کہ فتنہ نصاری بھی ان دنوں میں حد سے بڑھا ہوا ہو گا جن کا نام ضالین ہے اور ضالین پر بھی یعنی عیسائیوں پر بھی اگر چہ خدا تعالیٰ کا غضب ہے کہ وہ خدا کے حکم کے شنوا نہیں ہوئے مگر اس غضب کے آثار قیامت کو ظاہر ہوں گے اور اس جگہ مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر بوجہ تکفیر وتوہین وایز او ارادہ قتل مسیح موعود کے دنیا میں ہی غضب الہی نازل ہوگا یہ میرے جانی دشمنوں کے لیے قرآن کی پیشگوئی ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 213-212) یاد وہ دن جبکہ کہتے تھے یہ سب ارکان دیں مہدی موعودِ حق اب جلد ہوگا آشکار کون تھا جس کی تمنا یہ نہ تھی اک جوش۔کون تھا جس کو نہ تھا اس آنیوالے سے پیار پھر وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی سب سے اول ہو گئے منکر یہی دیں کے منار پھر دوبارہ آگئی اخبار میں رسم یہود پھر مسیح وقت کے دشمن ہوئے یہ جبہ دار تھا نوشتوں میں یہی از ابتداء تا انتہاء پھر مئے کیونکر کہ ہے تقدیر نے نقش جدار ( در تین اردو) (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ر خ جلد 21 صفحہ 137 138 ) وَتَفْصِيلُ الْمَقَامِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَخْبَرَ عَنْ بَعْضِ الْيَهُودِ فِي السُّورَةِ الْفَاتِحَةِ أَنَّهُمُ كَانُوا مَحَلَّ غَضَبِ اللهِ فِى زَمَنِ عِيسَى ابْنِ الصَّدِيقَةِ فَإِنَّهُمْ كَفَرُوهُ وَادَوْهُ وَآثَارُوْا لَهُ كُلَّ نَوْعِ الْفِتْنَةِ ثُمَّ أَشَارَ إِلَى أَنَّ طَائِفَةٌ مِّنْكُمْ كَمِثْلِهِمْ يُكَفِّرُوْنَ مَسِيحَهُمْ وَيُكَمِلُونَ انْحَاءِ الْمُشَابَهَةِ وَيَفْعَلُونَ بِهِ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ - وَأَنتُمْ تَقْرَثُونَ ايَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ لا تَلْتَفِتُون أَعَلَّمَكُمُ اللهُ هَذِهِ السُّورَةَ عَبَثًا كَوَضْع الشَّيْء فِي غَيْرِ مَحَلِهِ أَوْ كَتَبَهَا ليُرِ جَرِيمَةٍ تَرُتَكِبُونَهَا مَالَكُمْ لَا تُمُعِنُونَ وَمَا غَضِبَ اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْيَهُودِ إِلَّا لِمَا كَفَرُوْا رَسُولَهُ عِیسَی وَكَذَّبُوهُ وَشَتَمُوهُ وَكَادُوا لَن يَقْتُلُوهُ مِنَ الْحَسَدِ وَالْهَوَى وَقَدْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ قَدَرُ اللهِ أَنَّكُمْ تَفْعَلُونَ بِمَسِيحِكُمْ كَمَا فَعَلَ الْيَهُودُ بِمَسِيحِهِم - اس مقام کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ خدا تعالیٰ سورۃ فاتحہ میں ان بعض یہودیوں کی نسبت اطلاع دیتا ہے جن پر عیسی بن صدیقہ کے زمانہ میں خدا کا غضب ان پر نازل ہوا کیونکہ انہوں نے اس کو کافر کہا اور تایا اور ہر طرح کا فتنہ اٹھایا۔پھر خدا تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ یہود کی طرح اپنے مسیح کی تکفیر کرے گا اور ہر طرح کی مشابہت ان سے پیدا کرلیں گے۔اور ان کے ہاتھوں سے وہ سب کام ہونگے جو یہود نے کئے اور تم مغضوب علیہم کی آیت پڑھتے ہو پھر اس کی طرف توجہ نہیں کرتے کیا خدا نے یونہی یہ سورۃ تم کو سکھلائی جیسا کہ کوئی کسی چیز کو بے ٹھکانے رکھ دے یا اس سورۃ کو اس لئے اتارا کہ تم کو وہ گناہ یاد دلائے جو تمہارے ہاتھ سے ہوگا کیوں غور سے نہیں دیکھتے اور خدا اُن یہودیوں پر عیسی کو کافر کہنے کے سبب اور اس کی تکذیب اور اُس کو گالیاں دینے کے سبب غضب ناک ہوا اور اس لئے بھی کہ وہ ہوا وحسد کے مارے چاہتے تھے کہ اس کو قتل کردیں خدا تعالیٰ کی تقدیر تمہارے حق میں اسی طرح جاری ہوئی ہے کہ تم اپنے مسیح سے وہی کرو جو یہود نے اپنے مسیح سے کیا۔(خطبہ الہامیہ رخ جلد 16 صفحہ 215-216) ۴