حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 177
177 غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ معافی مغضوب علیہم یہود ایک قوم کا نام ہے جو حضرت موسی کی امت کہلائی ان بدقسمتوں نے شوخیاں کی تھیں۔سب نبیوں کو دکھ دیا۔یہ قاعدے کی بات ہے کہ جو کسی بدی میں کمال تک پہنچتا ہے اور نامی ہو جاتا ہے تو پھر اس بدی میں اسی کا نام لیا جاتا ہے۔ڈا کو تو کئی ہوئے مگر بعض ڈا کو خصوصیت سے مشہور ہیں۔دیکھو ہزاروں پہلوان گزرے ہیں مگر رستم کا نام ہی مشہور ہے۔یہ یہود چونکہ اول درجے کے شرارت کرنے والے تھے اور نبیوں کے سامنے شوخیاں کرتے۔اس لئے ان کا نام مغضوب علیہم ہو گیا یوں تو مغضوب علیہم اور بھی ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 389-390) اگر کوئی ہم سے سیکھے تو سارا قرآن ہمارے ذکر سے بھرا ہوا ہے ابتداہی میں ہے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِین - اب ان سے کوئی پوچھے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ کونسا فرقہ تھا تمام فرقے اسلام کے اس بات پر متفق ہیں کہ وہ یہودی تھے اور ادھر حدیث شریف میں ہے کہ میری امت یہودی ہو جائے گی تو پھر بتلاؤ کہ اگر مسیح نہ ہو گا تو وہ یہودی کیسے بنیں گے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 583) المغضوب علیھم سے مراد مولوی فرقہ ہے یہ بات بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ انجیل اور قرآن شریف میں جہاں یہودیوں کا کچھ خراب حال بیان کیا ہے وہاں دنیا داروں اور عوام کا تذکرہ نہیں بلکہ اُن کے مولوی اور فقیہ اور سردار کا ہن مراد ہیں جن کے ہاتھ میں کفر کے فتوے ہوتے ہیں اور جن کے وعظوں پر عوام افروختہ ہو جاتے ہیں اسی واسطے قرآن شریف میں ایسے یہودیوں کی اس گدھے سے مثال دی ہے جو کتابوں سے لدا ہوا ہو۔ظاہر ہے کہ عوام کو کتابوں سے کچھ سروکار نہیں کتا ہیں تو مولوی لوگ رکھا کرتے ہیں۔لہذا یہ بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ جہاں انجیل اور قرآن اور حدیث میں یہودیوں کا ذکر ہے وہاں ان کے مولوی اور علماء مراد ہیں اور اسی طرح غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے لفظ سے عام مسلمان مراد نہیں ہیں بلکہ ان کے مولوی مراد ہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 329 تا330) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 297) غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد مولوی ہیں کیونکہ ایسی باتوں میں اول نشانہ مولوی ہی ہوا کرتے ہیں دنیا داروں کو تو دین سے تعلق ہی کم ہوتا ہے۔المغضوب علیھم سے مراد مسیح موعود کے دشمن ہیں اس لئے قرآنی اصطلاح میں اُن کا نام مغضوب علیہم ہے۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حقیقی مصداق اس نام کا ان یہودیوں کو ٹھہرایا ہے جنہوں نے حضرت عیسی کو نابود کرنا چاہا تھا۔پس ان کے دائمی غضب کے مقابل پر خدا نے بھی ان کو دائمی غضب کے وعید سے پامال کیا جیسا کہ آیت و جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة (ال عمران : 56) سے سمجھا جاتا ہے اس قسم کا غضب جو قیامت تک منقطع نہ ہو اس کی نظیر قرآن شریف میں بحر حضرت مسیح کے دشمنوں کے یا آنے والے مسیح موعود کے دشمنوں کے اور کسی قوم کے لئے نہیں پائی جاتی اور مغضوب علیہم کے لفظ میں دنیا کے غضب کی وعید ہے جو دونوں مسیحوں کے دشمنوں کے متعلق ہے۔یہ ایسی نص صریح ہے کہ اس سے انکار قرآن سے انکار ہے۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 214)