حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 172
172 پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے یعنی نبیوں اور رسولوں کا راستہ۔اس آیت سے ہر اُس شخص پر جسے سمجھ بوجھ کا کچھ حصہ ملا ہے واضح ہو جاتا ہے کہ اس اُمت کو نبیوں کے قدم پر قائم کیا گیا ہے اور ایسا کوئی نبی نہیں جس کا مثیل اس اُمت میں نہ پایا جاتا ہو۔اگر یہ مشابہت اور مماثلت نہ ہوتی تو پہلوں جیسے کمال کا طلب کرنا بھی عبث ٹھہرتا اور دعا بھی باطل ہو جاتی۔پس اللہ تعالیٰ جس نے ہم سب کو نماز پڑھتے وقت اور صبح کے وقت اور شام کے وقت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعامانگنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ منعم علیہ گروہ یعنی نبیوں اور رسولوں کا راستہ طلب کرتے رہیں۔اس میں یہ اشارہ ہے کہ اُس نے شروع سے ہی مقدر کر رکھا ہے کہ بعض نیک لوگوں کو نبیوں کے نقش قدم پر اس اُمت میں معبوث کرتا رہے گا اور اُنہیں اُسی طرح خلیفہ بنا دے گا جیسا کہ اُس نے اس سے پہلے بنی اسرائیل سے خلفاء بنائے تھے۔اور یقیناً یہی (بات) حق ہے۔پس تو فضول جھگڑے اور قیل وقال چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ اس اُمت میں مختلف کمالات اور گونا گوں اخلاق جمع کر دے۔اعجاز یح۔رخ جلد 18 صفحہ 174 تا 176) انبیاء من حيث الظل باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالی ظلی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو اُن کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہو کر ان کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے اور اسی ظلی وجود کے قائم رکھنے کے لیے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ شہادت القرآن۔رخ جلد 6 صفحہ 351 تا 352) أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ نور دل جاتا رہا اک رسم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلح دیں کیا بکار راگ وہ گاتے ہیں جس کو آسماں گاتا نہیں وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں برخلاف شہریار در مشین اردو صفحه 105 ) ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 132 ) إِنَّ الْمُعْجِزَاتِ تَقْتَضِي الْكَرَامَاتِ لِيَبْقَى أَثَرُهَا إِلَى يَوْمِ الدِّينِ وَإِنَّ الَّذِينَ وَرِثُوا نَبِيَّهُمُ يُعْطَوْنَ مِن نِّعَمِهِ عَلَى الطَّرِيقَةِ الظَّلِيَّةِ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَبَطَلَتْ فُيُوضُ النُّبُوَّةِ - ( ترجمہ ) معجزات چاہتے ہیں کرامات کو تا کہ اُن کا نشان قیامت تک باقی رہے اور اپنے نبی علیہ السلام کے وارثوں کو بطور ظلیت کے آپ کی نعمتیں مرحمت ہوتی ہیں اور اگر یہ قاعدہ جاری نہ رہتا تو نبوت کے فیض بالکل باطل ہو جاتے۔ہم الھدی - ر خ جلد 18 صفحہ 275 274) از نور نمایان محمد الا اے منکر از شان محمد خبر دار ہو جا! اے وہ شخص جومہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان نیز محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے چمکتے ہوئے نور کا منکر ہے۔بیا کرامت گرچه بے نام و نشان است بنگر ز غلمان محمد اگر چہ کرامت اب مفقود ہے۔مگر تو آ اور اسے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دیکھ لے۔درشین فارسی صفحه 193 ) ( آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 صفحہ 649)