حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 170
170 نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا ہیچ ہے اور محمد ﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے اور کسی کیلئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیاختم نہ ہو جب تک محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (کشتی نوح۔رخ جلد 19 صفحہ 14) خدا تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ وہ اس فریق کی راہ خدا تعالیٰ سے طلب کرتے رہیں جو منم علیہم کا فریق ہے اور منعم علیہم کے کامل طور پر مصداق باعتبار کثرت کمیت اور صفائی کیفیت اور نعماء حضرت احدیت از روئے نص صریح قرآنی اور احادیث متواترہ حضرت مرسل یزدانی دو گروہ ہیں ایک گروہ صحابہ اور دوسرا گر وہ جماعت مسیح موعود چونکہ یہ دونوں گروہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ کے تربیت یافتہ ہیں کسی اپنے اجتہاد کے محتاج نہیں وجہ یہ کہ پہلے گروہ میں رسول اللہ ﷺے موجود تھے جو خدا سے براہ راست ہدایت پا کر وہی ہدایت نبوت کی پاک توجہ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں ڈالتے تھے اور ان کے لیے مربی بے واسطہ تھے۔اور دوسرے گروہ میں مسیح موعود ہے جو خدا سے الہام پاتا اور حضرت رسول اللہ ﷺ کی روحانیت سے فیض اٹھاتا ہے لہذا اس کی جماعت بھی اجتہاد خشک کی محتاج نہیں ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 224) اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں وعدہ مثیل وظل انبیاء ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ۔اس جگہ تمام مفسر قائل ہیں کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی ہدایت سے غرض تشبہ بالا نبیاء ہے جو اصل حقیقت اتباع ہے۔خدا نے انبیاء علیہم السلام کو ہی لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ تا دنیا میں اُن کے مثیل قائم کرے اگر یہ بات نہیں تو پھر نبوت لغو ٹھہرتی ہے۔نبی اس لئے نہیں آتے کہ اُن کی پرستش کی جائے بلکہ اس لئے آتے ہیں کہ لوگ اُن کے نمونے پر چلیں اور اُن سے تشبہ حاصل کریں اور اُن میں فنا ہو کر گویا وہی بن جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُل إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبكُمُ الله (ال عمران : 32) پس خدا جس سے محبت کرے گا کونسی نعمت ہے جو اس سے اٹھا رکھے گا اور اتباع سے مراد بھی مرتبہ فنا ہے جو مثیل کے درجے تک پہنچاتا ہے اور یہ مسئلہ سب کا مانا ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کرے گا مگر وہی جو جاہل سفیہ یا ملحد بے دین ہوگا۔ایام اسح۔رخ جلد 32 صفحہ 411-412) ثُمَّ لَمَّا كَانَ طَرِيقُ طَلَبِ الْهِدَايَةِ وَالتَّصْفِيَةِ لَا يَكْفِي لِلْوُصُولِ مِنْ غَيْرِ تَوَسُّلِ الائِمَّةِ وَالْمَهْدِيِّينَ مِنَ الْأُمَّةِ - مَا رَضِيَ اللهُ سُبْحَانَهُ عَلَى هَذَا الْقَدَرِ مِنْ تَعْلِيمِ الدُّعَاءِ - بَلْ حَتْ بِقَوْلِهِ صِرَاطَ الَّذِينَ عَلَى تَحَسُّسِ الْمُرْشِدِينَ وَالْهَادِينَ مِنْ أَهْلِ الْإِجْتِهَادِ وَالْاِصْطَفَاءِ مِنَ الْمُرْسَلِينَ وَالْأَنْبِيَاءِ - پھر چونکہ تلاش ہدایت اور تصفیہ نفس کا طریق ائمہ اور امت کے ہدایت یافتہ لوگوں کے وسیلہ کے بغیر وصول الی اللہ کے لیے کافی نہیں اس لئے خدا تعالیٰ محض اس قدر ( یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تک) دعا سکھانے پر راضی نہ ہوا۔بلکہ اس نے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہہ کر اُن مرشدوں اور ہادیوں کی تلاش کی ترغیب دلائی جو صاف باطن اور اجتہاد کرنے والے لوگوں میں سے ہادی اور راہنما ہیں یعنی رسولوں اور نبیوں کی۔(اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 172)