حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 169
169 ایک عزت کا خطاب سورہ فاتحہ سے ایک عزت کا خطاب مجھے عنایت ہوا۔وہ کیا ہے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 396 مورخہ 20 فروری 1901ء ) ( تفسیر حضرت اقدس سورۃ فاتحہ جلد 1 صفحہ 283) 14 ستمبر 1899ء کو یہ الہام ہوا: - ایک عزت کا خطاب۔ایک عزت کا خطاب لَكَ خِطَابُ الْعِزَّةِ۔ایک بڑا نشان اسکے ساتھ ہوگا۔مجھے امتیازی مرتبہ بخشنے کے لئے خدا نے میرا نام نبی رکھ دیا ہے اور مجھے یہ ایک عزت کا خطاب دیا گیا ہے۔“ ( مکتوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ 23 مئی 1908ء مندرجہ اخبار عام 26 مئی 1908ء) ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 339) منعم علیہ دوگروہ ہیں یہ بھی یادر ہے کہ سورۃ فاتحہ کے عظیم الشان مقاصد میں سے یہ دعا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔اور جس طرح انجیل کی دعا میں روٹی مانگی گئی ہے اس دعا میں خدا تعالیٰ سے وہ تمام نعمتیں مانگی گئی ہیں جو پہلے رسولوں اور نبیوں کو دی گئی تھیں یہ مقابلہ بھی قابل نظارہ ہے اور جس طرح حضرت مسیح کی دعا قبول ہو کر عیسائیوں کو روٹی کا سامان بہت کچھ مل گیا ہے اسی طرح یہ قرآنی دعا آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے قبول ہوکر اخیار وابرار مسلمان بالخصوص ان کے کامل فردا نبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے اور دراصل مسیح موعود کا اس امت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اسی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کیونکہ گوشفی طور پر بہت سے اختیار وابرار نے انبیاء بنی اسرائیل کی مماثلت کا حصہ لیا ہے مگر اس امت کا مسیح موعود کھلے کھلے طور پر خدا کے حکم اور اذن سے اسرائیلی مسیح کے مقابل کھڑا کیا گیا ہے تا موسوی اور محمدی سلسلہ کی مماثلت سمجھ آ جائے۔(کشتی نوح - ر- خ جلد 19 صفحہ 52-53) حسب منطوق آیت شَلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٍ مِنَ الْآخِرِئين (الواقعہ: 40، 41) خالص محمدی گروہ جو ہر ایک پلید ملونی اور آمیزش سے پاک اور تو بہ نصوح سے غسل دیئے ہوئے ایمان اور دقائق عرفان اور علم اور عمل اور تقویٰ کے لحاظ سے ایک کثیر التعداد جماعت ہے یہ اسلام میں صرف دو گروہ ہیں یعنی گروہ اولین وگر وہ آخرین جو صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت سے مراد ہے اور چونکہ حکم کثرت مقدار اور کمال صفائی انوار پر ہوتا ہے اس لیے اس سورۃ میں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے فقرہ سے مراد یہی دونوں گروہ ہیں یعنی آنحضرت عله مع اپنی جماعت کے اور مسیح موعود مع اپنی جماعت کے۔خلاصہ کلام یہ کہ خدا نے ابتدا سے اس امت میں دو گروہ ہی تجویز فرمائے ہیں اور انہی کی طرف سورۃ فاتحہ کے فقرہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں اشارہ ہے (1) ایک اولین جو جماعت نبوی ہے(2) دوسرے آخرین جو جماعت صحیح موعود ہے۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحہ 225-226) غرض منعم علیہم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ان کو حاصل کرنا ہر انسان کا اصل مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہیئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت ﷺ نے تیار کی تھی تا کہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 237)