حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 165 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 165

165 اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اُم الادعیہ ہے ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 346) نماز کا (جو مومن کی معراج ہے) مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے اور اسی لئے ام الاوعیہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دعا مانگی جاتی ہے۔اسلام وہ مذہب ہے جس کے بچے پیرووں کو خدا تعالیٰ نے تمام گزشتہ راست بازوں کا وارث ٹھہرایا ہے اور ان کی متفرق نعمتیں اس امت مرحومہ کو عطا کر دی ہیں۔اور اُس نے اس دعا کو قبول کر لیا ہے جو قرآن شریف میں آپ سکھلائی تھی اور وہ اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ہمیں وہ راہ دکھلا۔جوان راست بازوں کی راہ ہے۔جن پر تو نے ہر یک انعام اکرام کیا ہے۔یعنی جنہوں نے تجھ سے ہر ایک قسم کی برکتیں پائی ہیں اور تیرے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہوئے ہیں اور تجھ سے دعاؤں کی قبولیتیں حاصل کی ہیں۔اور تیری نصرت اور مدداور راہ نمائی ان کے شامل حال ہوئی ہے اور ان لوگوں کی راہوں سے ہمیں بچا۔جن پر تیرا غضب ہے اور جو تیری راہ کو چھوڑ کر اور راہوں کی طرف چلے گئے ہیں۔یہ وہ دعا ہے جو نماز میں پانچ وقت پڑھی جاتی ہے اور یہ بتلا رہی ہے کہ اندھا ہونے کی حالت میں دنیا کی زندگی بھی ایک جہنم ہے اور پھر مرنا بھی ایک جہنم ہے اور در حقیقت خدا کا سچا تابع اور واقعی نجات پانے والا وہی ہو سکتا ہے جو خدا کو پہچان لے اور اُس کی ہستی پر کامل ایمان لے آوے اور وہی ہے جو گناہ کو چھوڑ سکتا ہے اور خدا کی محبت میں محو ہوسکتا ہے۔لیکچر لاہور۔رخ جلد 20 صفحہ 161-162) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے حقیقی معانی اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہئے کہ قرآن شریف کے بعض حصے دوسرے حصوں کی تفسیر اور شرح ہیں ایک جگہ ایک امر بطریق اجمال بیان کیا جاتا ہے۔تو دوسری جگہ وہی امر کھول کر بیان کر دیا گیا ہے گویا دوسرا پہلے کی تفسیر ہے۔پس اس جگہ جو یہ فرمایا۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو یہ بطریق اجمال ہے لیکن دوسرے مقام پر منعم علیہم کی خود ہی تغییر کر دی ہے۔مِنَ النَّبَيِّنَ وَالصِّدِ يُقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ (النساء:70) منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں نبی ، صدیق ، شہدا اور صالح انبیاء علیہم السلام میں چاروں شانیں جمع ہوتی ہیں کیونکہ یہ اعلیٰ کمال ہے۔ہر ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کمالات کے حاصل کرنے کے لیے جہاں تک مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے اس طریق پر جو آنحضرت ﷺ نے اپنے عمل سے دکھا دیا ہے کوشش کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 236) غور سے قرآن کریم کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ پہلی ہی سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے دعا کی تعلیم دی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔دعا تب ہی جامع ہو سکتی ہے کہ وہ تمام منافع اور مفاد کو اپنے اندر رکھتی ہو اور تمام نقصانوں اور مضرتوں سے بچاتی ہو۔پس اس دعا میں بہترین منافع جو ہو سکتے ہیں اور ممکن ہیں وہ اس دعا میں مطلوب ہیں اور بڑی سے بڑی نقصان رساں چیز جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اُس سے بچنے کی دعا ہے میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہیں۔اول نبی ، دوم صدیق، سوم شہید، چہارم صالحین۔پس اس دعا میں گویا ان چاروں گروہوں کے