حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 145
145 وَأَنَّ الْأَرْضَ زُلْزِلَتْ لَنَا زِلْزَالًا - فَأَخْرَجَتْ أَثْقَالا - و فُجْرَت الا نهَارُ وَسُجِّرَتِ الْبِحَارُ وَجُدِّدَتِ الْمَرَاكِبُ وَعُطِّلَتِ الْعِشَارُ - وَإِنَّ السَّابِقِيْنَ مَارَءَ وُا كَمِثْلِ مَا رَتَيْنَا مِنَ النِّعْمَاءِ وَ فِي كُلِّ قَدَمٍ نِعْمَةٌ وَّ قَدْ خَرَجَتْ مِنَ الْإِحْصَاءِ وَمَعَذَالِكَ كَثُرَتْ مَوْتُ الْقُلُوبِ وَ قَسَاوَةُ الْأَفْئِدَةِ - كَأَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ مَّا تُوْا وَلَمْ يَبْقَ فِيهِمْ رُوحُ الْمَعْرِفَةِ إِلَّا قَلِيلُ الَّذِي هُوَ كَالْمَعْدُومِ مِنَ النَّدْرَةِ - وَإِنَّا فَهِمْنَا مِمَّا ذَكَرُ نَا مِنْ ظُهُورِ الصِّفَاتِ وَتَجَلَّى الرُّبُوبِيَّةِ وَالرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ كَمِثْلِ الْآيَاتِ ثُمَّ مِنْ كَثُرَةِ الْأَمْوَاتِ وَمَوْتِ النَّاسِ مِنْ سَمَ الضَّلَالَاتِ اَنَّ يَوْمَ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ قَرِيبٌ بَلْ عَلَى الْبَابِ كَمَا هُوَ ظَاهِرٌ مِّنْ ظُهُورِ الْعَلَامَاتِ وَالْأَسْبَابِ فَإِنَّ الرُّبُوْبِيَّةَ وَالرَّحْمَانِيَّةَ وَالرَّحِيمِيَّةَ تَمَوَّ جَتْ كَتَمَوُّجِ الْبِحَارِ وَظَهَرَتْ وَ تَوَاتَرَتْ وَجَرَتْ كَالْأَنْهَارِ فَلَا شَكٌّ أَنَّ وقَتَ الْحَشْرِ وَالنُّشُورِ قَدْاتى - وَقَدْ مَضَتْ هَذِهِ السُّنَّةُ فِي صَحَابَةِ خَيْرِ الْوَرى وَلَا شَكُ أَنَّ هَذَا الْيَوْمُ الدِّينِ وَيَوْمُ الْحَشْرِ وَيَوْمُ مَالِكِيَّةِ رَبِّ السَّمَاءِ وَظُهُورِ آثَارِهَا عَلَى قُلُوْبِ أَهْلِ الْأَرْضِينَ وَلَا شَكٍّ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَسِيحِ الْحَكَمِ مِنَ اللهِ أَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ - وَأَنَّهُ حَشْرٌ بَعْدَ هَلَاكِ النَّاسِ وَقَدْ مَضَى نَمُوذَجُهُ فِي زَمَنِ عِيسَى وَ زَمَنِ خَاتَمِ النَّبِيِّنَ فَتَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغَافِلِينَ ترجمه از مرتب :- پس زمین ہماری خاطر خوب جھنجھوڑی گئی ہے اور اس نے اپنے بوجھ ( یعنی خزانے ) باہر نکال پھینکے ہیں نہریں جاری کی گئی ہیں۔دریا خشک کر دیئے گئے ہیں۔نئی نئی سواریاں نکل آئی ہیں اور اونٹنیاں بریکار ہوگئی ہیں۔ہمارے پہلوں نے ایسی تمیں نہیں دیکھی تھیں جو ہم نے دیکھی ہیں۔ہر قدم پر ایک (نئی ) نعمت ( موجود ) ہے اور یہ ( نعمتیں ) حد شمار سے باہر ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی دلوں کی موت اور ان کی سختی بہت بڑھ گئی گویا کہ تمام لوگ مر چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی شناخت کرنے کی روح ان میں باقی نہیں رہی سوائے بہت کم لوگوں کے جو شاذ و نادر ہونے کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہیں پس ان صفات کے ظہور سے جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں اور ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت کی روشن نشانوں کی طرح تجلی سے اور پھر کثرت اموات اور گمراہیوں کے زہر سے لوگوں کے مرنے سے ہم نے جان لیا ہے کہ حشر و نشر کا دن قریب ہے بلکہ دروازے پر ہے جیسا کہ ان علامات اور اسباب کے ظہور سے واضح ہو گیا ہے کیونکہ ربوبیت ، رحمانیت اور رحیمیت سمندروں کے جوش مارنے کی طرح موجزن ہیں اور ظاہر ہو چکی ہیں اور پے در پے نازل ہو رہی ہیں اور دریاؤں کی طرح جاری ہیں۔لہذا بلا شبہ اب حشر و نشر کا وقت آگیا ہے۔یہ سنت اللہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ( کے وقت ) میں بھی ہو گزری ہے۔پس بلا شبہ یہ زمانہ یوم الدین ہے یوم حشر ہے آسمانوں کے رب کی مالکیت اور اس ( مالکیت ) کے آثار اہل زمین کے دلوں پر ظاہر ہونے کا دن ہے اور (اس امر میں بھی کوئی شک نہیں یہ زمانہ اس مسیح کا زمانہ ہے جو خدائے احکم الحاکمین کی طرف سے حکم ہے اور لوگوں کی ہلاکت (روحانی) کے بعد ایک حشر کا وقت ہے۔اور اس کا حکم سے نمونہ حضرت عیسی" کے زمانہ میں بھی اور حضرت خاتم النبین ﷺ کے زمانہ میں بھی گذر چکا ہے۔پس تم بھی غور کرو اور غافلوں ) کی صف ) میں شامل نہ ہو۔اعجاز مسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 162 تا164)