حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xv of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xv

xii اس مقام تک فرمودات حضرت اقدس میں جو حقائق بیان ہوئے ہیں ان کی ترتیب اس طرح سے ہے: اول یہ کہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم اور آسان ہے۔دوم یہ کہ قرآن کریم کے دقیق حقائق اور معارف ضرورت زمانہ کے موافق کھلتے ہیں۔سوم یہ کہ جب کسی زمانے کی دینی اور روحانی مشکلات کے حل کی ضرورت پیش آتی ہے تو ان کو حل کرنے کی غرض سے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں۔اس حد تک یہ امور تو واضح ہو گئے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے نزول میں دستور خداوندی کیا ہے۔اور یہ کہ وہ کیا محرکات اور عوامل ہوتے ہیں جو شریعت اور اس کے عرفان کے نازل ہونے کا موجب ہوتے ہیں۔اور یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ نزول شریعت کے اصول کے مطابق قرآن کریم کے دقائق اور معارف بھی بغیر کسی ضرورت پیش آمدہ کے ظاہر نہیں ہوتے۔اس مقام پر یہ جائزہ لینا ہے کہ حضرت اقدس نے اپنے وقت کی دینی ضروریات کو کس طور سے بیان کیا ہے اور آپ کے وقت کے کیا تقاضے تھے جن سے عہدہ برا ہونے کے لئے آپ حضرت کو وحی الہی کی تائید کے ساتھ قرآن کریم کے حقائق اور معارف عطا کئے گئے۔حضرت اپنے وقت کی دینی مشکلات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔وہ پاک وعدہ جس کو یہ پیارے الفاظ ادا کر رہے ہیں کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُون۔(الحجر: 10 ) وہ انہیں دنوں کے لئے وعدہ ہے جو بتلا رہا ہے کہ جب اسلام پر سخت بلا کا زمانہ آئے گا اور سخت دشمن اس کے مقابل کھڑا ہوگا اور سخت طوفان پیدا ہو گا تب خدائے تعالیٰ آپ اس کا معالجہ کرے گا اور آپ اس طوفان سے بچنے کے لئے کوئی کشتی عنایت کرے گا وہ کشتی اسی عاجز کی دعوت ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 264 حاشیہ) مزید فرماتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کو اسلام کی غیرت نہ ہوتی اور اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسلام (آل عمران: 20 ) خدا کا کلام نہ ہوتا اور اس نے نہ فرمایا ہوتا۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: 10 ) تو بیشک آج وہ حالت اسلام کی ہوگئی تھی کہ اس کے مٹنے میں کوئی بھی شبہ نہیں ہوسکتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی رحمت اور وعدہ حفاظت نے تقاضا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز کو پھر نازل کرے اور اس زمانہ میں آپ کی نبوت کو نئے سرے سے زندہ کر کے دکھا دے چنانچہ اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور مجھے مامور اور مہدی بنا کر بھیجا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 65) دین اسلام اور رسول اکرم کی نبوت کے خلاف جن بلاؤں اور جن دشمنوں کا ذکر حضرت نے فرمایا ہے۔ان کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ یہ مخالفت اور دشمنی کا طوفان دو طور سے ظاہر ہوا تھا۔ایک امت محمدیہ کے اندرونی اختلافات اور بے راہ روی تھی اور دوسرے اسلام پر بیرونی طور پر اعتراضات اور اس کی حقانیت پر شکوک و شبہات کا طوفان تھا۔