حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 117 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 117

117 ( ترجمه از مرتب ) جاننا چاہیئے کہ سورۃ فاتحہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے پہلا نام فاتحۃ الکتاب ہے اور اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ قرآن مجید اسی سورۃ سے شروع ہوتا ہے۔نماز میں بھی پہلے یہی سورۃ پڑھی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ سے جو رب الارباب ہے دعا کرتے وقت اسی (سورۃ ) سے ابتدا کی جاتی ہے۔اور میرے نزدیک اس سورۃ کو فاتحہ اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو قرآن کریم کے مضامین کے لئے حکم قرار دیا ہے اور جو اخبار غیبیہ اور حقائق و معارف قرآن مجید میں احسان کرنے والے خدا کی طرف سے بیان کیے گئے ہیں وہ سب اس میں بھر دیئے گئے ہیں اور جن امور کا انسان کو مبدء و معاد ( دنیا اور آخرت ) کے سلسلہ میں جاننا ضروری ہے ، وہ سب اس میں موجود ہیں۔مثلاً وجود باری ،ضرورت نبوت اور مومن بندوں میں سلسلہ خلافت کے قیام پر استدلال اور اس سورۃ کی سب سے بڑی اور اہم خبر یہ ہے کہ یہ سورۃ مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ کی بشارت دیتی ہے اور اسے ہم خدائے ودود کی دی ہوئی توفیق سے اس کے محل پر بیان کریں گے۔اعجاز ایج۔رخ جلد 18 صفحہ 70-71) السبع المثاني سورۃ فاتحہ حضرت اقدس علیہ السلام پر دوبارہ نازل ہوئی ہے ا ( تذکرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ 46) ایک دفعہ مسجد مبارک میں حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ السلام تشریف رکھتے تھے۔۔۔سبع مثانی کی تحقیق کا ذکر ہوا۔کسی نے احمد کا نام بتلایا۔اور کسی نے دوسری آیتوں کا۔اور کسی نے کہا کہ الحمد مکہ معظمہ اور مدنیہ منورہ میں نازل ہوئی۔اس لئے دونوں مقام پر نازل ہونے کے باعث اس کا نام سبع مثانی ہوا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن ہمارے نزدیک اس سورۃ کا ایک بار آنحضرت ﷺ پر نازل ہونا اور دوسری بار مہدی ومسیح موعود پر نازل ہوتا ہے جس کے سبب سے اس کا نام سبع مثانی ہوا۔( مکتوب(2) صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی (1)) (1) یعنی صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی (مرتب) (2) یه مکتوب قلمی دفتر تالیف و تصنیف صدر انجمن احمد یہ ربوہ میں بوقت تیاری تذکرہ طبع دوم موجود تھا جس سے خاکسار نے نقل کیا۔مگر اب کہیں غائب ہے۔(مرتب) ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 800 ) سورۃ فاتحہ ایک پیشگوئی ہے سورۃ فاتحہ نری تعلیم ہی نہیں بلکہ اس میں ایک بڑی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا نے اپنی چاروں صفات ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالکیت یوم الدین یعنی اقتدار جزا سزا کا ذکر کر کے اور اپنی عام قدرت کا اظہار فرما کر پھر ا سکے بعد کی آیتوں میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ خدایا ایسا کر کہ گذشتہ راستباز نبیوں رسولوں کے ہم وارث ٹھہرائے جائیں ان کی راہ ہم پر کھولی جائے اور ان کی نعمتیں ہم کو دی جائیں خدایا ہمیں اس سے بچا کہ ہم اس قوم میں سے ہو