حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 116 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 116

116 سورۃ فاتحہ میں قرآن شریف کی تمام تعلیم کا خلاصہ ہے سورۃ الفاتحہ کا نام اُمّ الكتاب اس کا نام ام الکتاب بھی ہے کیونکہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا اس میں خلاصہ اور عطر موجود ہے۔ایام اصبح رخ جلد 14 صفحہ 246-247) چوتھا لطیفہ یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ مجمل طور پر تمام مقاصد قرآن شریف پر مشتمل ہے گویا یہ سورۃ مقاصد قر آنیہ کا ایک ایجاز لطیف ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنِ العظیم ( الحجر (88) یعنی ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصد دینیہ کوظاہر کرتا ہے اور اسی جہت سے اس سورۃ کا نام ام الکتاب اور سورۃ الجامع ہے۔ام الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصد قر آنیہ اس سے مستخرج ہوتے ہیں اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علوم قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمال مشتمل ہے اسی جہت سے آنحضرت علی نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گویا اس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا غرض قرآن شریف اور حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ سورۃ فاتحہ ممدوحہ ایک آئینہ قرآن نما ہے۔(براہین احمدیہ - رخ جلد 1 صفحہ 580-581 حاشیہ نمبر 1) سورۃ فاتحہ پر جو قرآن شریف کا باریک نقشہ ہے اور اُمّ الکتاب بھی جس کا نام ہے خوب غور کرو کہ اس میں اجمال کے ساتھ قرآن کریم کے تمام معارف درج ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 125) سورۃ الفاتحہ کا مقصد اعلیٰ حضرت مسیح موعود اور آپ کی جماعت کی ترقی کی خبر ہے سورۃ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ کہ جس طرح یہودی لوگ حضرت عیسی کو کافر اور دجال کہہ کر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ بن گئے بعض مسلمان بھی ایسے ہی بنیں گے۔اسی لئے نیک لوگوں کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ وہ منعم علیہم میں سے حصہ لیں اور مغضوب علیہم نہ بنیں سورۃ فاتحہ کا اعلیٰ مقصود مسیح موعود اور اس کی جماعت اور اسلامی یہودی اور ان کی جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کی خبر ہے سوکس قد ر خوشی کی بات ہے کہ وہ باتیں آج پوری ہوئیں۔( نزول امسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 414 تا415) سورۃ فاتحہ کا پہلا نام فاتحۃ الکتاب اور اس کی وجہ اعْلَمُ أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ لَهَا أَسْمَاء كَثِيرَةٌ فَأَوَّلُهَا فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَسُمِّيَتْ بِذَالِكَ لِأَنَّهُ يُفْتَتَحَ بِهَا فِي الْمُصْحَفِ وَفِي الصَّلوةِ وَفِي مَوَاضِع الدُّعَاءِ مِنْ رَّبِّ الْأَرْبَابِ وَ عِنْدِي أَنَّهَا سُمِّيَتْ بِهَا لِمَا جَعَلَهَا اللهُ حَكَمًا لِلْقُرْآنِ وَمُلِقَى فِيهَا مَا كَانَ فِيْهِ مِنْ أَخْبَارٍ وَّ مَعَارِفَ مِنَ اللَّهِ الْمَنَّان - وَأَنَّهَا جَامِعَةٌ لِكُلِّ مَا يَحْتَاجُ الْإِنْسَانُ إِلَيْهِ فِي مَعْرِفَةِ الْمَبْدَءِ وَالْمَعَادِ كَمِثْلِ الْإِسْتِدْلَالِ عَلَى وُجُودِ الصَّائِعِ وَ ضُرُورَةِ النُّبُوَّةِ وَالْخِلَافَةِ فِي الْعِبَادِ وَمِنْ أَعْظَمِ الْأَخْبَارِ وَاكْبَرِهَا أَنَّهَا تُبَشِّرُ بِزَمَانِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ وَايَّامِ الْمَهْدِي الْمَعْهُودِ وَ سَنَذْكُرُهُ فِي مَقَامِهِ بِتَوْفِيقِ اللَّهِ الْوَدُوْدِ