حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 109 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 109

109 عرب صاحب نے سوال کیا کہ مسیح موعود کے متعلق قرآن میں کہاں کہاں ذکر ہے۔فرمایا: سورة فاتحہ، سورۃ نور سورة تحریم وغیرہ میں۔سورۃ فاتحہ میں تو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 6) سورة نور میں وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُو مِنكُمُ (النور: 56) اور سورۃ تحریم میں جہاں مومنوں کی مثالیں بیان کی ہیں۔ان میں فرمایا وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمُرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرُ جَهَا (التحريم : 13) - ( ملفوظات جلد دوم صفحه 668) قرآن کریم میں حضرت اقدس کے کئی نام ہیں بعض نا واقف یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مسیح موعود کا قرآن شریف میں کہاں ذکر ہے؟ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا کی کتابوں میں مسیح موعود کے کئی نام ہیں منجملہ ان کے ایک نام خاتم الخلفاء ہے یعنی ایسا خلیفہ جو سب سے آخر آنے والا ہے سو اس نام کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح موعود کے بارے میں پیشگوئی موجود ہے چنانچہ سورۃ نور میں خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے آخری دنوں تک اُن کے دین کی تقویت کے لئے خلیفے پیدا کرتا رہے گا اور ان کے ذریعہ سے خوف کے بعد امن کی صورت پیدا کر دے گا۔آخری دنوں تک خلیفوں کا پیدا ہونا اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بموجب نص صریح قرآن شریف کے اسلام کا دور دنیا کے آخری دنوں تک ہے پس ما نا پڑا کہ اسلام میں بھی ایک خاتم الخلفاء ہے جیسا کہ حضرت موسی کے سلسلہ میں حضرت عیسی خاتم الخلفاء تھے۔اور یہ عجیب راز ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسی حضرت موسی سے بموجب قول یہود کے چودھویں صدی میں پیدا ہوئے اسی طرح اسلام کا خاتم الخلفاء اسی مدت کے بعد مبعوث ہوا۔منہ۔(چشمه معرفت رخ جلد 23 صفحہ 333 حاشیہ) سب نبیوں کے نام حضرت اقدس کو دیئے گئے ہیں جب سن ہجری کی تیرھویں صدی ختم ہو چکی تو خدا نے چودھویں صدی کے سر پر مجھے اپنی طرف سے مامور کر کے بھیجا۔اور آدم سے لیکر اخیر تک جس قدر نبی گذر چکے ہیں سب کے نام میرے نام رکھ دئے اور سب سے آخری نام میرا عیسی موعود اور احمد اور محمد معہود رکھا۔اور دونوں ناموں کے ساتھ بار بار مجھے مخاطب کیا ان دونوں ناموں کو دوسرے لفظوں میں مسیح اور مہدی کر کے بیان کیا گیا۔(چشمہ معرفت۔رخ جلد 23 صفحہ 328) یہ لوگ جو بار بار پوچھتے ہیں کہ قرآن میں کہاں نام ہے؟ ان کو معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ نے میرا نام احمد رکھا ہے۔بُورَكتَ يا اَحْمَدُ وغیرہ بہت سے الہام ہیں۔میرا نام محمد رکھا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ۔اور احمد نام پر ہی ہم بیعت لیتے ہیں۔کیا یہ نام قرآن شریف میں نہیں ہیں؟ پھر جس قد ر میرے نام ادم عیسی، داؤد ، سلیمن وغیرہ رکھے ہیں وہ سب قرآن میں موجود ہیں ماسوائے اس کے یہ سلسلہ اپنے ساتھ ایک علمی ثبوت رکھتا ہے اگر ان علمی امور کو یکجائی طور پر دیکھا جاوے تو آفتاب کی طرح اس سلسلہ کی سچائی روشن نظر آتی ہے خدا تعالیٰ نے میرے سارے نبیوں کے نام رکھے ہیں اور آخر جَرِى اللهِ فِي حُلَلِ الَا نُبِيَاءِ کہہ دیا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 316 تا 317)