حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 82
82 سترہویں فصل احیاء دین اسلام اور قیام شریعت کے اعتبار سے الہامات حضرت اقدس دور خسروی آغاز کردند مسلمان را مسلمان باز کردند جب (ہمارا) شاہی زمانہ شروع ہوا تو مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان کیا گیا مقام او مہیں از راه تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند اس کے درجہ کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھ کہ رسولوں نے اس کے زمانہ پر ناز کیا ہے مصرعہ نمبر ا تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 665-601) ر نمبر 2 " صفحه (604 کیونکہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ اس روز اس کی پاک کتاب کا جلوہ ظاہر ہو۔میں نے عالم کشف میں اس کے متعلق دیکھا کہ میرے محل پر غیب سے ایک ہاتھ مارا گیا اور اس ہاتھ کے چھونے سے اس محل میں سے ایک نورساطعہ نکلا جوارد گرد پھیل گیا اور میرے ہاتھوں پر بھی اسکی روشنی ہوئی۔تب ایک شخص جو میرے پاس کھڑا تھا وہ بلند آواز سے بولا کہ اللہ اکبر۔خربت خیبر۔اس کی یہ تعبیر کہ اس محل سے میرا دل مراد ہے جو جائے نزول وحلول انوار ہے اور وہ نور قرآنی معارف ہیں۔اور خیبر سے مراد تمام خراب مذہب ہیں جن میں شرک اور باطل کی ملونی ہے اور انسان کو خدا کی جگہ دیکئی یا خدا کی صفات کو اپنے کامل محل سے نیچے گرا دیا ہے۔سو مجھے جتلایا گیا کہ اس مضمون کے خوب پھیلنے کے بعد جھوٹے مذہبوں کا جھوٹ کھل جائیگا اور قرآنی سچائی دن بدن زمین پر پھیلتی جائیگی جب تک کہ اپنا دائرہ پورا کرے پھر میں اس کشفی حالت سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے یہ الہام ہوا۔ان الله معك ان الله يقوم اينما قمت یعنی خدا تیرے ساتھ ہے خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو۔یہ حمایت الہی کے لئے ایک استعارہ ہے۔( تریاق القلوب۔۔جلد 15 صفحہ 227-226) میں نے ارادہ کیا کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے اس آدم کو پیدا کیا۔وہ دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا جب مسیح السلطان کا دور شروع کیا گیا۔تو مسلمان کو جو صرف رسمی مسلمان تھے نئے سرے سے مسلمان بنانے لگے آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے ہم نے ان دونوں کو کھول دیا (تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 665) یعنی زمین نے اپنی پوری قوت ظاہر کی اور آسمان نے بھی۔جب تیرھویں صدی کا آخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔اور اللہ تعالی کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ:۔الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنذِرَ قَوْ مَامَّا أُنذِرَ آبَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِينَ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ" - کتاب البريه رخ جلد 13 صفحہ 202-201 حاشیہ)