حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 924 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 924

924 سالک کامل إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَ الْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا۔(النصر : 2-3) سو در حقیقت ایک ہی کامل انسان دنیا میں آیا جس نے ایسے اتم اور اکمل طور پر یہ روحانی قیامت دکھلائی اور ایک زمانہ دراز کے مردوں اور ہزاروں برسوں کے عظیم رمیم کو زندہ کر دکھلایا اس کے آنے سے قبریں کھل گئیں اور بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑ گئی اور اس نے ثابت کر دکھلایا کہ وہی حاشر اور وہی روحانی قیامت ہے جس کے قدموں پر ایک عالم قبروں میں سے نکل آیا اور بشارت إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ۔وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا۔(النصر :2-3) تمام جزیرہ عرب پر اثر انداز ہوگئی اور پھر اس قیامت کا نمونہ صحابہ تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس خداوند قادر قدیر نے جس نے ہر قوم اور ہر زمانہ اور ہر ملک کے لئے اس بشیر و نذیر کو مبعوث کیا تھا ہمیشہ کے لئے جاودانی برکتیں اس کے بچے تابعداروں میں رکھ دیں اور وعدہ کیا کہ وہ نور اور وہ روح القدس جو اس کامل انسان کے صحابہ ” کو دیا گیا تھا آنے والے متبعین اور صادق الا خلاص لوگوں کو بھی ملے گا۔( آئینہ کمالات اسلام - ر- خ - جلد 5 صفحہ 208-207 ) إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔(الاحزاب: 73) وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا، نجوم میں نہیں تھا قمر میں نہیں آفتاب میں بھی نہیں تھا وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ حل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سمادی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہمرنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں اور امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل بر طبق آیت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّو الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا۔(النساء: 59) اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کے راہ میں وقف کر دیتا ہے۔آئینہ کمالات اسلام - خ - جلد 5 صفحہ 161-160) غور سے دیکھنا چاہیئے کہ جس حالت میں اللہ جل شانہ آنحضرت صلی علیہ وسلم کا نام اول المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سردار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے ماننے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کر سکے۔خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لئے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا۔سُبحَانَ اللَّهِ مَا أَعْظَمَ شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَ موسی و عیسی ہمہ خیل تواند جملہ دریں راہ طفیل تواند (ترجمہ: - موسیٰ اور عیسی تیرے پیرو ہیں۔اس راہ میں سب تیرے طفیل سے ہیں۔) ( آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 164-163)