حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 855
855 استقا (1) اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔(2) الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا۔۔۔۔الاية استقامت۔۔وہی ہے جس کو صوفی لوگ اپنی اصطلاح میں فنا کہتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے معنے بھی فنا ہی کے کرتے ہیں۔یعنی روح۔جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہو جائیں اور اپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مر جائیں۔بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو اپنے ارادوں اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دنیا ہی کے جوشوں اور ارادوں کی ناکامیوں میں اس دنیا سے اٹھ جاتے ہیں۔نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اس کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدة: 31) یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے نیچے آگئے اور اس کے اسم اعظم استقامت کے نیچے جب بیضئہ بشریت رکھا گیا پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف و حزن ان کو نہیں رہتا۔میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے۔استقامت سے کیا مراد ہے؟ ہر ایک چیز جب اپنے عین محل اور مقام پر ہو وہ حکمت اور استقامت سے تعبیر پاتی ہے مثلاً دور بین کے اجزا کو اگر جدا جدا کر کے ان کو اصل مقامات سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیں وہ کام نہ دے گی۔غرض وضع الشئی فی محلہ کا نام استقامت ہے یادوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ بیت طبیعی کا نام استقامت ہے پس جب تک انسانی بناوٹ کو ٹھیک اسی حالت پر نہ رہنے دیں اور اسے مستقیم حالت میں نہ رکھیں وہ اپنے اندر کمالات پیدا نہیں کر سکتی۔دعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسم اعظم جمع ہوں اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ کرے خواہ وہ اس کی ہوا و ہوس ہی کا بت کیوں نہ ہو؟ جب یہ حالت ہو جائے تو اس وقت ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المومن:61) کا مزا آ جاتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی طرف آجاتے ہیں وہ صرف اللہ تعالٰی کے ہی راستہ پر نہیں آتے بلکہ اس صراط مستقیم پر استقامت بھی دکھلاتے ہیں نتیجہ کیا ہوتا کہ ظہر و تنویر قلوب کی منزلیں طے کر لیتے ہیں اور بعد انشراح صدر کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو حاصل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص نعمتوں سے متمتع فرماتا ہے۔محبت و ذوق الہی ان کی غذا ہو جاتی ہے۔مکالمہ البی، وحی الہام و کشف وغیرہ انعامات الہی سے مشرف و بهرمند کئے جاتے ہیں۔درگاہ رب العزت سے طمانیت و سکینت ان پر اترتی ہے۔حزن و مایوسی ان کے نزدیک تک نہیں پھٹکتی۔ہر وقت جذ بہ محبت و ولولہ عشق الہی میں سرشار رہتے ہیں گویا لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: 113) کے پورے مصداق ہو جاتے ہیں۔مَا دُرُّ مَا قَالَ کلید ایں ہمہ دولت محبت است و وفا خوشا کسیکه چنیں دولتش عطا باشد ترجمہ :- ان تمام کامیابیوں کی کنجی محبت اور وفا ہے۔کیا ہی خوش قسمت وہ ہے جس کو یہ دولت عطا ہو۔غرض استقامت بڑی چیز ہے۔استقامت ہی کی بدولت تمام گروہ انبیاء ہمیشہ مظفر منصور و بامراد ہوتا چلا آیا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 465-464) ( ملفوظات جلد سوم صفحه 37-35)