حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 836 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 836

836 الہام حضرت اقدس:۔امن است در مکان محبت سرائے ما ترجمہ :۔ہمارے قیام کی محبت سرا میں امن ہی امن ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 257) طریقت کی چھ حالتیں بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِى صَلَاتِهِمْ حَشِعُونَ۔وَ الَّذِينَ هُمُ عَن اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔وَالَّذِينَ هُمُ لِلزَّكَوةِ فَعِلُونَ۔وَ الَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمُ اَوْمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ۔فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْعَدُونَ۔وَالَّذِينَ هُمُ لا مَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَعُونَ۔وَالَّذِينَ هُمُ عَلَى صَلَوتِهِمْ يُحَافِظُونَ۔أُولَئِكَ هُمُ الْوارِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔(المومنون 1 تا 12) اس تمام تقریر سے ثابت ہے کہ یہ مراتب ستہ عقل سلیم کے نزدیک اس مومن کی راہ میں پڑے ہیں جو اپنے وجود روحانی کو کمال تک پہنچانا چاہتا ہے اور ہر ایک انسان تھوڑے سے غور کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ضرور مومن پر اس کے سلوک کے وقت چھ حالتیں آتی ہیں۔وجہ یہ کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ سے کامل تعلق نہیں پکڑتا تب تک اس کا نفس ناقص پانچ خراب حالتوں سے پیار کرتا ہے اور ہر ایک حالت کا پیار دور کرنے کے لئے ایک ایسے سبب کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس پیار پر غالب آجائے۔اور نیا پیار پہلے پیار کا علاقہ تو ڑ دے۔براهین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 234) پہلی حالت چنانچہ پہلی حالت جس سے وہ پیار کرتا ہے یہ ہے کہ وہ ایک غفلت میں پڑا ہوتا ہے اور اسکو بالکل خدا تعالیٰ سے بعد اور دوری ہوتی ہے اور نفس ایک کفر کے رنگ میں ہوتا ہے اور غفلت کے پردے تکبر اور لا پروائی اور سنگدلی کی طرف اس کو کھینچتے ہیں اور خشوع اور خضوع اور تواضع اور فروتنی اور انکسار کا نام ونشان اس میں نہیں ہوتا اور اسی اپنی حالت سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو اپنے لئے بہتر سمجھتا ہے اور پھر جب عنایت الہیہ اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرتی ہے تو کسی واقعہ کے پیدا ہونے سے یا کسی آفت کے نازل ہونے سے خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت اور جبروت کا اس کے دل پر اثر پڑتا ہے اور اس اثر سے اس پر ایک حالت خشوع پیدا ہو جاتی ہے جو اس کے تکبر اور گردن کشی اور غفلت کی عادت کو کالعدم کر دیتی ہے اور اس سے علاقہ محبت تو ڑ دیتی ہے۔( براھین احمدیہ۔رخ - جلد 21 صفحہ 235-234)