حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 826
826 دنیا کی خواہشات ترک کرنا أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِايَتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزُنًا۔(الكهف : 106) فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ وَزُنًا۔میں گناہ کا ذکر نہیں ہے۔اس کا باعث صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے دنیا کی خواہشوں کو مقدم رکھا ہوا تھا۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا کا حظ پا چکے۔وہاں بھی گناہ کا ذکر نہیں بلکہ دنیا کی لذات جن کو خدا تعالیٰ نے جائز کیا ہے ان میں منہمک ہو جانے کا ذکر ہے۔اس قسم کے لوگوں کا مرتبہ عند اللہ کچھ نہ ہو گا اور نہ ان کو کوئی عزت کا مقام دیا جائے گا۔شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔مومن تو خود مصیبت خریدتا ہے ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیں لیکن آپ نے دین کو مقدم رکھا اس لئے سب دشمن ہو گئے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 84) مومن آدمی کا سب ہم و غم خدا کے واسطے ہوتا ہے دنیا کے لئے نہیں ہوتا اور وہ دنیاوی کاموں کو کچھ خوشی سے نہیں کرتا بلکہ اداس سا رہتا ہے اور یہی نجات حیات کا طریق ہے اور وہ جو دنیا کے پھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے ہم وغم سب دنیا کے ہی لئے ہوتے ہیں ان کی نسبت تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزُنًا ہم قیامت کو ان کا ذرہ بھر بھی قدر نہیں کریں گے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 306) اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اُس یار کے لئے رہ عشرت کو چھوڑ دو لعنت کی ہے یہ راہ سو لعنت کو چھوڑ دو ورنہ خیال حضرت عزت کو چھوڑ دو تلخی کی زندگی کو کرو صدق سے قبول تم پہ ہو ملائکہ عرش کا نزول براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 18) فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَّ لَيَبْكُوا كَثِيرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ۔(التوبة : 82) صوفیوں نے لکھا ہے کہ اگر چالیس دن تک رونا نہ آوے تو جانو کہ دل سخت ہو گیا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَّ لَيَبْكُوا كَثِيرًا کہ ہنسو تھوڑا اور دو بہت مگر اس کے برعکس دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ہنتے بہت ہیں اب دیکھو کہ زمانہ کی کیا حالت ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ انسان ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتا رہے بلکہ جس کا دل اندر سے رورہا ہے وہی روتا ہے۔انسان کو چاہیئے کہ دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ کر خشوع اور خضوع سے دعا میں مشغول ہو۔اور بالکل عجز و نیاز سے خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر پڑے تا کہ وہ اس آیت کے نیچے نہ آوے۔جو بہت ہنستا ہے وہ مومن نہیں اگر سارے دن کا نفس کا محاسبہ کیا جاوے تو معلوم ہوگا کہ بنسی اور تمسخر کی میزان زیادہ ہے اور رونے کی بہت کم ہے بلکہ اکثر جگہ بالکل ہی نہیں۔اب دیکھو کہ زندگی کس غفلت میں گذر رہی ہے اور ایمان کی راہ کس قدر مشکل ہے گویا ایک طرح سے مرنا ہے اور اصل میں اسی کا نام ایمان ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 456)