حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 816
816 (ترجمہ) نبیوں کے کمالات پروردگار عالم کے کمالات کی طرح نہیں ہوتے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا بے نیاز اور یگانہ ہے اس کی ذات اور صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں لیکن نبی ایسے نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے بچے متبعین میں سے ان کے وارث بناتا ہے۔پس ان کی امت ان کی وارث ہوتی ہے وہ سب کچھ پاتے ہیں جو ان کے نبیوں کو ملا ہو بشر طیکہ وہ ان کے پورے پورے متبع بنیں۔اور اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آیت قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران : 32) میں اشارہ فرمایا ہے۔پس دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ نے افرا دامت کو اپنے محبوب قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ محبوبوں کے سردار ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی کریں اور آپ کے نمونہ پر چلیں۔(کرامات الصادقین۔۔۔خ۔جلد 7 صفحہ 131) انبیاء اپنا مثل قائم کرنا چاہتے ہیں خدا نے انبیاء علیہم السلام کو اسی لیے دنیا میں بھیجا ہے کہ تا دنیا میں ان کے مثیل قائم کرے اگر یہ بات نہیں تو پھر نبوت لغو ٹھہرتی ہے۔نبی اس لیے نہیں آتے کہ ان کی پرستش کی جائے بلکہ اس لیے آتے ہیں کہ لوگ ان کے نمونے پر چلیں اور ان سے تشبہ حاصل کریں اور ان میں فنا ہو کر گویا ہی بن جائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُل اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : 32) پس خدا جس سے محبت کر یگا کونسی نعمت ہے جو اس سے اٹھارکھے گا اور اتباع سے مراد بھی مرتبہ فنا ہے جو مثیل کے درجے تک پہنچاتا ہے۔اور یہ مسئلہ سب کا مانا ہوا ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کریگا مگر وہی جو جاہل سفیہ یا ملحد بے دین ہوگا۔(ایام الصلح۔رخ۔جلد 14 صفحہ 412-411) خدا کی ذات میں بخل نہیں۔اور نہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ ان کی پوجا کی جاوے۔بلکہ اس لیے کہ لوگوں کو تعلیم دیں کہ ہماری راہ اختیار کرنے والے ہمارے ظل کے نیچے آجاویں گے۔جیسے فرمایا۔إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران (32) یعنی میری پیروی میں تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر محبوب ہونے کی بدولت یہ سب اکرام ہوئے مگر جب کوئی اور شخص محبوب بنے گا۔تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔اگر اسلام ایسامذہب ہے۔تو سخت بیزاری ہے ایسے اسلام سے۔مگر ہرگز اسلام ایسا مذ ہب نہیں۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو وہ مائدہ لائے ہیں کہ جو چاہے اس کو حاصل کرے۔وہ نہ تو دنیا کی دولت لائے اور نہ مہاجن بن کر آئے تھے۔وہ تو خدا کی دولت لائے تھے اور خود اس کے قاسم تھے پس اگر وہ مال دینا نہیں تھا تو کیا وہ گٹھڑی واپس لے گئے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 177-176)