حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 812
دوسری فصل 812 محبت الہی اور اتباع رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْيِيكُمُ اللهُ ويَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُم۔28, و الله غفورٌ رَّحِيم۔(آل عمران: 32) روحانیت کے نشو و نما اور زندگی کے لئے صرف ایک ہی ذریعہ خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور وہ اتباع رسول ہے۔قرآن شریف اگر کچھ بتا تا ہے تو یہ کہ خدا سے یوں محبت کرو۔اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ کے مصداق بنو اور فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله پر عمل کرو ایسی فناء اتم تم پر آ جاوے کہ تبلُ إِلَيْهِ تَبتِیلاً کے رنگ سے تم رنگین ہو جاؤ۔اور خدا تعالیٰ ( ملفوظات جلد اول صفحه 559-558) ط کوسب چیزوں پر مقدم کرلو۔اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور طرز عمل کو اپنا رہبر اور ہادی نہ بنالے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا ہے قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله یعنی محبوب الہی بننے کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جاوے۔بچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 62) ان کو کہ دو کہ تم اگر چاہتے ہو کہ محبوب الہی بن جاؤ اور تمہارے گناہ بخش دیئے جاویں تو اس کی ایک ہی راہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔کیا مطلب کہ میری پیروی ایک ایسی شے ہے جو رحمت الہی سے ناامید ہونے نہیں دیتی گناہوں کی مغفرت کا باعث ہوتی اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے۔اور تمہارا یہ دعویٰ کہ ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اسی صورت میں سچا اور صحیح ثابت ہوگا کہ تم میری پیروی کرو۔اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے کسی خود تراشیدہ طرز ریاضت و مشقت اور جپ پ سے اللہ تعالٰی کا محبوب اور قرب الہی کا حقدار نہیں بن سکتا انوار و برکات الہیہ کسی پر نازل نہیں ہوسکتیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں کھویا نہ جاوے۔اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گم ہو جاوے اور آپ کی اطاعت اور پیروی میں ہر قسم کی موت اپنی جان پر وارد کر لے اس کو وہ نور ایمان۔محبت اور عشق دیا جاتا ہے جو غیر اللہ سے رہائی دلا دیتا ہے۔اور گناہوں سے رستگاری اور نجات کو موجب ہوتا ہے۔اسی دنیا میں وہ ایک پاک زندگی پاتا ہے۔اور نفسانی جوش و جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے نکال دیا جاتا ہے اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے اَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِی یعنی میں وہ مردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 427-426) ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بارے خدایا ہم نے