حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 810 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 810

810 تم اس بات کو سمجھ لو کہ تمہارے پیدا کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرص یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے لئے بن جاؤ۔دنیا تمہاری مقصود بالذات نہ ہو۔میں اس لئے بار بار اس امر کو بیان کرتا ہوں کہ میرے نزدیک یہی ایک بات ہے اس کے لئے انسان آیا ہے اور یہی بات ہے جس سے وہ دور پڑا ہوا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ تم دنیا کے کاروبار چھوڑ دو۔بیوی بچوں سے الگ ہو کر کسی جنگل یا پہاڑ میں جا بیٹھو۔اسلام اس کو جائز نہیں رکھتا اور رہبانیت اسلام کا منشا نہیں اسلام تو انسان کو چست ہوشیار اور مستعد بنانا چاہتا ہے اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ تم اپنے کاروبار کو جد و جہد سے کرو۔حدیث میں آیا ہے کہ جس کے پاس زمین ہو وہ اس کا تر ڈونہ کرے تو اس سے مواخذہ ہوگا۔پس اگر کوئی اس سے یہ مراد لے کہ دنیا کے کاروبار سے الگ ہو جاوے وہ غلطی کرتا ہے نہیں اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کا روبار جو تم کرتے ہو اس میں دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہوا اور اس کے ارادہ سے باہر نکل کر اپنی اغراض اور جذبات کو مقدم نہ کرنا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 118) اس بے ثبات گھر کی محبت کو چھوڑ دو اُس یار کے لئے رہ عشرت کو چھوڑ دو لعنت کی ہے یہ راہ سولعنت کو چھوڑ دو ورنہ خیال حضرت عزت کو چھوڑ دو تلخی کی زندگی کو کرو صدق سے قبول تا تم پہ ہو ملائکہ عرش کا نزول اسلام چیز کیا ہے ؟ خدا کے لئے فنا ترک رضائے خویش ہے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہے حیات اس رہ میں زندگی نہیں ملتی بجز ممات ( در مشین صفحه 103 ) ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 18) وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَاسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنُجَبيَّلًا۔عَيْنًا فِيْهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا۔(الدهر : 18-19) وہ جو نیکو کار ہیں وہ اسی دنیا میں ایسا کا فوری شربت پی رہے ہیں جس نے ان کے دلوں میں سے دنیا کی محبت ٹھنڈی کر دی ہے اور دنیا طلبی کی پیاس بجھادی ہے۔کا فوری شربت کا ایک چشمہ ہے جو ان کو عطا کیا جاتا ہے اور وہ اس چشمہ کو پھاڑ پھاڑ کر نہر کی صورت پر کر دیتے ہیں تا وہ نزدیک اور دور کے پیاسوں کو اس میں شریک کر دیں اور جب وہ چشمہ نہر کی صورت پر آ جاتا ہے اور قوت ایمانی بڑھ جاتی ہے اور محبت الہی نشو و نما پانے لگتی ہے تب ان کو ایک اور شربت پلایا جاتا ہے جو ز کیلی شربت کہلاتا ہے۔یعنی پہلے تو وہ کا فوری شربت پیتے ہیں جس کا کام اس قدر ہے کہ دنیا کی محبت ان کے دلوں پر سے ٹھنڈی کر دے لیکن بعد اس کے وہ ایک گرم شربت کے بھی محتاج ہیں تا خدا کی محبت کی گرمی ان میں بھڑ کے کیونکہ صرف بدی کا ترک کرنا کمال نہیں ہے۔پس اس کا نام تحصیلی شربت ہے اور اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے جس کے معنے ہیں خدا کی راہ پوچھ۔لیکچر لاہور۔رخ - جلد 20 صفحہ 159-158)