حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 795
795 ب دہم سلوک یعنی محبت الہی ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 176-177) إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّون اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران:۳۲) خدا کی ذات میں بخل نہیں اور نہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ ان کی پوجا کی جاوے بلکہ اس لئے کہ لوگوں کو تعلیم دیں کہ ہماری راہ اختیار کرنے والے ہمارے کل کے نیچے آ جاویں گے جیسے فرمایا۔اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْنِكُمُ اللهُ ( آل عمران :۳۲) یعنی میری پیروی میں تم خدا تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرمحبوب ہونے کی بدولت یہ سب اکرام ہوئے مگر جب کوئی اور شخص محبوب بنے گا تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا؟ اگر اسلام ایسا مذہب ہے تو سخت بیزاری ہے ایسے اسلام سے مگر ہرگز اسلام ایسا مذہب نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ مائدہ لائے ہیں کہ جو چاہے اس کو حاصل کرے۔بجز اسیری عشق رخش رہائی نیست بدري أو همه امراض را دوا باشد ہمہ اُس کے چہرہ کے عشق کی قید کے سوا کوئی آزادی نہیں اور اُس کا در دہی سب بیماریوں کا علاج ہے۔عنایت و و کرمش به بینی اش اگرت چشم خویش وا باشد اس کا فضل و کرم ہر وقت میری پرورش کرتا ہے اگر تیری آنکھیں کھلی ہیں تو تجھے یہ بات نظر آ جائے گی۔بکار خانہ قدرت ہزار ہا نقش اند مگر تحلی" رحماں ز نقش ما باشد قدرت کے کارخانے میں ہزاروں نقش ہیں۔مگر رحمن کا جلوہ صرف ہمارے نقش سے نظر آتا ہے۔بیامدم که ره صدق را درخشانم بدلستاں برم آن را که پارسا باشد میں اس لئے آیا ہوں کہ صدق کی راہ کو روشن کروں اور دلبر کے پاس اُسے لے چلوں جو نیک و پارسا ہے۔بیامدم که در علم و رشد بکشائیم بخاک نیز نمایم که در سما باشد پرورد مرا هردم میں اس لئے آیا ہوں کہ علم و ہدایت کا دروازہ کھولوں اور اہل زمین کو وہ چیزیں دکھاؤں جو آسمانی ہیں۔تریاق القلوب رخ، جلد 15 صفحہ 134) لو میل و محبت میں عجب تاثیر ہے ایک دل کرتا ہے جھک کر دوسرے دل کو شکار کوئی ره نزدیک تر راہ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت خار اُس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آ جائے گا زر بے شمار تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازو! نہ ہونا سُست اس میں زینہار ہے یہی اگ آگ تا تم کو بچاوے آگ سے ہے یہی پانی کہ نکلیں جس سے صدہا آبشار اس سے خود آ کر ملے گا تم سے وہ یار ازل اس سے تم عرفانِ حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار وہ کتاب پاک و برتر جس کا فرقاں نام ہے وہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار (در تین اردو - صفحه 141)