حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 53
53 بوده وارث شدم حضرت اقدس آنحضر کے علوم کے وارث ہیں انبیاء اگر چہ انبیاء بہت مصطفی ٧٠ اند ہوئے ہیں یقیں شده من بعرفاں نہ کمترم ز کے مگر میں معرفت الہی میں کسی سے کم نہیں ہوں رنلیں برنگ یارحسیں میں یقیناً مصطفیٰ آئینه ام کا وارث ہوں اور اس حسیں محبوب کے رنگ میں رنگین ہوں ز رب عنی از صورت مدنی میں اسی کی طرف سے ان کی ماند ہ و مدینہ کے چاندکی صورت دنیا کو کھانے کیلئے آئینہ ہوں اس صورت در مشین فارسی مترجم صفحہ 335-336 ) ( نزول مسیح۔ر خ جلد 18 صفحہ 478-477) اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت اور نبوت کی یقینی حقیقت جو ہمیشہ ہر ایک زمانہ میں منکرین وحی کو ساکت کر سکے اسی حالت میں قائم رہ سکتی ہے کہ سلسلہ وحی برنگ محدثیت ہمیشہ کیلئے جاری رہے۔سو اس نے ایسا ہی کیا۔محدث وہ لوگ ہیں جو شرف مکالمہ البہی ہے مشرف ہوتے ہیں اور ان کا جو ہر نفس انبیاء کے جو ہر نفس سے اشد مشابہت رکھتا ہے۔اور وہ خواص عجیبہ نبوت کیلئے بطور آیات باقیہ کے ہوتے ہیں تا یہ دقیق مسئلہ نزول وحی کا کسی زمانہ میں بے ثبوت ہو کر صرف بطور قصہ کے نہ ہو جائے اور یہ خیال ہرگز درست نہیں کہ انبیاء علیہم السلام دنیا سے بے وارث ہی گذر گئے اور اب ان کی نسبت کچھ رائے ظاہر کرنا بجز قصہ خوانی کے اور کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتا بلکہ ہر ایک صدی میں ضرورت کے وقت ان کے وارث پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس صدی میں یہ عاجز ہے خدا تعالیٰ نے مجھ کو اس زمانہ کی اصلاح کیلئے بھیجا ہے تا وہ غلطیاں جو بجز خدا تعالیٰ کی خاص تائید کے نکل نہیں سکتی تھیں وہ مسلمانوں کے خیالات سے نکالی جائیں اور منکرین کو بچے اور زندہ خدا کا ثبوت دیا جائے اور اسلام کی عظمت اور حقیقت تازہ نشانوں سے ثابت کی جائے۔سو یہی ہورہا ہے قرآن کریم کے معارف ظاہر ہو رہے ہیں لطائف اور دقائق کلام ربانی کے کھل رہے ہیں نشان آسمانی اور خوارق ظہور میں آرہے ہیں اور اسلام کے حسنوں اور نوروں اور برکتوں کا خدا تعالیٰ نئے سر سے جلوہ دکھلا رہا ہے جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہیں دیکھے اور جس میں سچا جوش ہے وہ طلب کرے اور جس میں ایک ذرہ حب اللہ اور رسول کریم کی ہے وہ اٹھے اور آزمائے اور خدا تعالیٰ کی اس پسندیدہ جماعت میں داخل ہو وے جس کی بنیادی اینٹ اس نے اپنے پاک ہاتھ سے رکھی ہے۔بركات الدعا۔رخ جلد 6 صفحہ 24-23) بلایا ہم نے طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے یہ قمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے آزمائش کیلئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل آؤ لوگو ! کہ یہیں نور خدا پاؤ گے!! تو تمھیں طور تسلی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفی پر ترا بیحد ہو سلام اور رحمت اس سے نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام - رخ جلد 5 صفحہ 224 225 )