حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 48
48 صلى الله حضرت اقدس آنحضرت ﷺ کے بروز ہیں إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَo(الحجر: 10) بیشک آج وہ حالت اسلام کی ہو گئی تھی کہ اس کے مٹنے میں کوئی بھی شبہ نہیں ہوسکتا تھا مگر اللہ تعالیٰ کی غیرت نے جوش مارا اور اس کی رحمت اور وعدہ حفاظت نے تقاضا کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بروز کو پھر نازل کرے اور اس زمانہ میں آپ کی نبوت کو نئے سرے سے زندہ کر کے دکھا وے چنانچہ اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا اور مجھے مامور اور مہدی بنا کر بھیجا۔۔۔۔یہ وعدہ حفاظت چاہتا تھا کہ جب غارت گری کا موقع ہو تو وہ خبر لے۔چوکیدار کا کام ہے کہ وہ نقب دینے والوں کو پوچھتے ہیں اور دوسرے جرائم والوں کو دیکھ کر اپنے منصبی فرائض عمل میں لاتے ہیں۔اسی طرح پر آج چونکہ فتن جمع ہو گئے تھے اور اسلام کے قلعہ پر ہر قسم کے مخالف ہتھیار باندھ کر حملہ کرنے کو طیار ہو گئے تھے اس لئے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ منہاج نبوت قائم کرے یہ مواد اسلام کی مخالفت کے دراصل ایک عرصہ دراز سے پک رہے تھے اور آخراب پھوٹ نکلے جیسے ابتداء میں نطفہ ہوتا ہے اور پھر ایک عرصہ مقررہ کے بعد بچہ بن کر نکلتا ہے اسی طرح پر اسلام کی مخالفت کے بچہ کا خروج ہو چکا ہے اور اب وہ بالغ ہو کر پورے جوش اور قوت میں ہے اس لئے اس کو تباہ کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے آسمان سے ایک حربہ نازل کیا اور اس مکروہ شرک کو جو اندرونی اور بیرونی طور پر پیدا ہو گیا تھا دور کرنے کیلئے اور پھر خدا تعالیٰ کی توحید اور جلال قائم کرنے کے واسطے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے اور میں بڑے دعوئی اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ بیشک یہ خدا کی طرف سے ہے اس نے اپنے ہاتھ سے اس کو قائم کیا ہے جیسا کہ اس نے اپنی تائیدوں اور نصرتوں سے جو اس سلسلہ کیلئے اس نے ظاہر کی ہیں دکھا دیا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 66-65) یہ ظلم اور شرارت کی بات ہے کہ ختم نبوت سے خدا تعالیٰ کا اتنا ہی منشاء قرار دیا جائے کہ منہ سے ہی خاتم النبین ما وار کر تو میں وہی کرو جو تم خود پسند کرو اور اپنی ایک الگ شریعت بنا لو۔بغدادی نماز معکوس نماز وغیرہ ایجاد کی ہوئی ہیں۔کیا قرآن شریف یا بنی کریم اے کے عمل میں بھی اس کا کہیں پتہ لگتا ہے۔اور ایسا ہی یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئا للہ کہنا اس کا ثبوت بھی کہیں قرآن سے ملتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے وقت تو شیخ عبدالقادر جیلانی کا وجود بھی نہ تھا۔پھر یہ کس نے بتایا تھا۔شرم کرو۔کیا شریعت اسلام کی پابندی اور التزام اسی کا نام ہے؟ اب خود ہی فیصلہ کرو کہ کیا ان باتوں کو مان کر ایسے عمل رکھ کر تم اس قابل ہو کہ مجھے الزام دو کہ میں نے خاتم النبین کی مہر کو توڑا ہے۔اصل اور کچی بات یہی ہے کہ اگر تم اپنی مساجد میں بدعات کو دخل نہ دیتے اور خاتم النبیین ﷺ کی کچی نبوت پر ایمان لا کر آپ کے طرز عمل اور نقش قدم کو اپنا امام بنا کر چلتے ، تو پھر میرے آنے ہی کیا ضرورت ہوتی۔تمہاری ان بدعتوں اور نئی نبوتوں نے ہی اللہ تعالیٰ کی غیرت کو تحریک دی کہ رسول اللہ ﷺ کی چادر میں ایک شخص کو مبعوث کرے جو ان جھوٹی نبوتوں کے بت کو توڑ کر نیست و نابود کرے۔پس اسی کام کے لئے خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔میں نے سنا ہے کہ غوث علی پانی پتی کے ہاں شاکت مت کا ایک منتر رکھا ہوا ہے جس کا وظیفہ کیا جاتا ہے اور ان گدی نشینوں کو سجدہ کرنایا ان کے مکانات کا طواف کرنا، یہ تو بالکل معمولی اور عام باتیں ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اسی لیے قائم کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور عزت کو دوبارہ قائم کریں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 65)