حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 726 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 726

726 این مگو ما خودیم عالم دین تو به کن از مکالمات چنیں تو یہ نہ کہہ ہم خود دین کے عالم ہیں۔ایسی باتوں سے تو بہ کر۔هر که آگاه از خدا آگاه کور را کور کے نماید راه اندھے کو اندھا کس طرح راستہ دکھا سکتا ہے جو بھی واقف راہ ہے وہ خدا کی طرف سے آگاہ کیا گیا ہے آں یکے از دہانِ دلداری نکتہ ہائے شنید و اسرارے ایک شخص تو وہ ہے جو اپنے معشوق کے منہ سے نکتے اور اسرارسنتا ہے۔واں دگر از خیال خود بگماں پس کجا باشد ایں دوکس یکساں رد وسر الشخص وہ ہے جو اپنے خیالات کی بنیاد پر شک اور گمان میں مبتلا ہے پس کس طرح یہ دونو برابر ہوسکتے ہیں۔نزول المسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 480-482 ) ( در شین فارسی متر جم صفحه 358,348) کشف و رویاء اور وحی ءِ خفی غرض قرآن ایسی مجمل کتاب نہیں جو کبھی اور کسی صورت میں معیار کا کام نہ دے سکے۔جس کا ایسا خیال ہے بے شک وہ سخت نادان ہے۔بلکہ ایمان اس کا خطرہ کی حالت میں ہے اور حدیث انـــی اوتیت الكتاب و مثلہ سے آپ کے خیال کو کیا د دو انچ سکتی ہے؟ آپ کو معلوم نہیں کہ وحی متلو کا خاصہ ہے جو اس کے ساتھ تین چیزیں ضرور ہوتی ہیں خواہ وہ وحی رسول کی ہو یا نبی کی یا محدث کی۔اول۔مکاشفات صحیحہ جو اخبارات اور بیانات وحی کو کشفی طور پر ظاہر کرتے ہیں۔گویا خبر کو معائنہ کر دیتے ہیں۔جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بہشت اور دوزخ دکھلایا گیا جس کا قرآن کریم نے بیان کیا تھا۔اور ان گذشتہ رسولوں سے ملاقات کرائی گئی جن کا قران حمید میں ذکر کیا گیا تھا ایسا ہی بہت سی معاد کی خبریں کشفی طور پر ظاہر کی گئیں۔تا وہ علم جو قرآن کے ذریعہ سے دیا گیا تھا۔زیادہ تر انکشاف پکڑے اور موجب طمانیت اور سکینت کا ہو جائے۔دوئم۔وحی متلو کے ساتھ رویائے صالحہ دی جاتی ہے جو نبی اور رسول اور محدث کیلئے ایک قسم کی وحی میں ہی داخل ہوتی ہے اور باوجود کشف کے رویاء کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ تاعلم استعارات کا جو رویا پر غالب ہے وجی یاب پر کھل جائے اور علوم تعبیر میں مہارت پیدا ہواور تا کشف اور رویا اور وحی باعث تعد دطرق کے ایک دوسرے پر شاہد ہوں اور اس وجہ سے نبی اللہ کمالات اور معارف یقینیہ کی طرف ترقی رکھے۔