حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 725
725 ☆ کیا وہ علم کوئی چیز ہے جسے ہمارے رب نے نہ سکھایا ہو اور کونسی بات ہم اس کے بعد اختیار کر سکتے ہیں؟ وہ کتاب کریم ہے اس کی آیات محکم ہیں اور اس کی زندگی دلوں کو زندہ اور روشن کرتی ہے۔وہ بد بخت کو دھکے دیتی ہے اور وہ اس کے نکات کو نہیں چھوسکتا اور وہ پر ہیز گار کو ہدایت سے سیراب کرتی ہے سو وہ نشو و نما پاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔۔اور میرے رب کی مہربانی نے اپنے فیض سے مجھے بہرہ ور کیا ہے۔میں اس کی کتاب کا شیر خوار ہوں اور اسکی حفاظت میں ہوں۔وہ کریم ہے۔وہ جسے چاہتا ہے اپنے علوم دیتا ہے وہ قدیر ہے۔سوتو (اس بات کی ) کیسے تکذیب کرتا ہے اور کیسے (اس پر ) تعجب کرتا ہے۔( کرامات الصادقین۔ر۔خ۔جلد 7 صفحہ 87) ( در شین عربی القصائد الاحمدیہ صفحہ 68) وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَّنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (سبا: 29) ہم ایسے نبی کے وارث ہیں جو رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ اور كَافَّةً لِلنَّاسِ کے لئے رسول ہو کر آیا۔جس کی کتاب کا خدا محافظ اور جس کے حقائق و معارف سب سے بڑھ کر ہیں پھر ان معارف اور حقائق کو پانے والا کیوں کم ہے؟ ( ملفوظات جلد دوئم صفحہ 291) يقولون انا لا نرى ضرورة مسيح و لا مهدی و كفانا القران و انا مهتدون۔و يعلمون ان القرآن كتاب لا يمسه الا المطهرون۔فاشتدت الحاجة الى مفسر زكى من ايدى الله و ادخل في الذين يبصرون۔ترجمہ از اصل:۔کہتے ہیں کہ ہم کو سیح اور مہدی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ قرآن ہمارے لئے کافی ہے اور ہم سیدھے رستے پر ہیں۔حالانکہ جانتے ہیں کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ سوائے پاکوں کے اور کسی کی فہم اس تک نہیں پہنچتی۔اس وجہ سے ایک ایسے مفسر کی حاجت پڑی کہ خدا کے ہاتھ نے اسے پاک کیا ہو اور بینا بنایا ہو۔(خطبہ الہامیہ۔ر-خ- جلد 16 صفحہ 183-184) تا نہ فضلش در تو بگشاید صد فضولی بکن چه کار آید جب تک اس کا فضل تیرے لئے دروازہ نہ کھولے تو تو اگر سینکڑوں فضولیاں بھی کرتا ر ہے سب بیکار ہیں۔آں خدائے کہ وعدہ حکم داد از راه رحم لطف ھے و وہ خدا جس نے ایک حکم کا وعدہ اپنے لطف اور رحم کی راہ سے کیا تھا۔او بدانست از ازل که انام راه خود گم کنند از اوهام وہ ازل سے یہ جانتا تھا کہ مخلوقات شک وشہبات میں پڑ کر اپنا راستہ بھول جائے گی۔درنه کار چه خواهد بود ره نمائی بمرد راه چه سود ور نہ پھر حکم کا کام کیا ہو گا ٹھیک راستے پر چلنے والے انسان کو راہ دکھانے کا کیا فائدہ۔راه گم کرده را حکم باید تا بدو راه راست بنماید حکم تو گمراہ کے لیے درکار ہوتا ہے تا کہ وہ اس کو سیدھا رستہ دکھائے۔