حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 42
42 نویں فصل صلى الله احادیث آنحضرت ﷺ کے اعتبار سے الہام حضرت اقدس أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ ادَمَ لِيُقِيمَ الشَّرِيعَةَ وَيُحْيِ الذِيْنَ كِتَابُ الْوَلِيِّ ذُو الْفَقَارِ عَلِيّ۔وَلَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَبْنَاءِ الفَارِسِ يَكَادُ زَيْتُهُ يُضِى ءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ۔جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْمُرْسَلِيْنَ۔ترجمہ: میں نے چاہا کہ میں خلیفہ بناؤں۔پس میں نے آدم کو پیدا کیا۔تا کہ وہ شریعت کو قائم کر ہے اور دین کو زندہ کرے۔ولی کی کتاب علی کی ذوالفقار ہے۔اور اگر ایمان ثریا سے لٹکا ہوتا۔تو ابناء فارس میں سے ایک شخص اسے وہاں سے لے آتا۔قریب ہے کہ اس کا تیل روشن ہو جائے اگر چہ آگ اسے چھوٹی بھی نہ ہو۔اللہ کا رسول تمام تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 243 ضیاء الاسلام پریس ربوہ ) رسولوں کے لباس میں۔فرمودات حضرت اقدس خدا کے کلام میں یہ امر قرار یافتہ تھا کہ دوسرا حصہ اس امت کا وہ ہو گا جو مسیح موعود کی جماعت ہوگی اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو دوسروں سے علیحدہ کر کے بیان کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (سورة الجمعة :(4) یعنی امت محمدیہ میں سے ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنے والے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضرت ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کی پشت پر مارا اور فرمایا لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالْكُرَيَّا لَنَا لَهُ رَجَلٌ مِنْ فَارِسَ اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی جیسا کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی تصدیق کے لیے وہی حدیث بطور وحی میرے پر نازل کی اور وحی کی رو سے مجھ سے پہلے اسکا کوئی مصداق معین نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے معین کر دیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ (حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 22 صفحہ 407 حاشیہ ) إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الَّذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُوْنَ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کم إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ، لَحفِظُونَ (الحجر:۱۰) کس وقت کے لیے کیا گیا تھا؟ کیا ابھی کوئی اور مصیبت بھی رہ گئی تھی جو اسلام پر آنی باقی ہو؟ یا درکھو حفاظت سے اوراق کی حفاظت ہی مراد نہیں بلکہ اس کی تشریح ایک حدیث میں ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ قرآن شریف دنیا سے اٹھ جاوے گا۔ایک صحابی نے عرض کیا کہ لوگ قرآن کو پڑھتے ہوں گے تو اٹھ کیسے جاوے گا ؟ فرمایا کہ میں تو تمہیں عقلمند خیال کرتا تھا مگر تم بڑے بیوقوف ہو کیا عیسائی انجیل نہیں پڑھتے ؟ اور کیا یہودی تو ریت نہیں پڑھتے ؟ قرآن شریف کے اٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ قرآن شریف کا علم اٹھ جاوے گا اور ہدایت دنیا سے نابود ہو جاوے گی۔انوار اور اسرار قرآنیہ سے لوگ بے بہرہ ہو جاویں گے اور عمل کوئی نہ کرے گا۔قرآن جس کے سکھانے کو آیا ہے لوگ اس پراہ کو ترک کر دیں گے اور اپنی ہوا و ہوس کے پابند ہو جاویں گے۔جب یہ حال ہوگا تو ابنائے فارس میں سے ایک شخص آوے گا اور وہ دین کو از سرنو واپس لائے گا اور دین کو اور قرآن کو از سر نو تازہ کرے گا۔قرآن کی کھوئی ہوئی عظمت اور بھولی ہوئی ہدایت اور ثریا پر چڑھ گیا ہوا ایمان دوبارہ دنیا میں پھیلا دے گا۔لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ هَؤُلَاءِ (ای ابناء فارس) ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 552553)