حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 660 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 660

660 قرآن کریم میں اکثر اوقات واحد متکلم سے جمع متکلم مراد ہوتی ہے رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ۔۔الخ (نوح: 29) قرآن مجید میں دونوں طرح دعائیں سکھائی گئی ہیں۔واحد کے صیغہ میں بھی جیسے رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَيَّ۔۔الخ (نوح: 29) اور جمع کے صیغہ میں بھی جیسے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة: 202) اور اکثر اوقات واحد متکلم سے جمع متکلم مراد ہوتی ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 586585) أَفَغَيْرَ اللَّهِ اَبْتَغِى حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَبَ مُفَصَّلا و الَّذِينَ آتَيْنهُمُ الْكِتَبَ يَعْلَمُونَ اَنَّهُ مُنَزَّلُ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ۔(الانعام: 115) پھر اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر شک کرنے سے بعض ایسے نو مسلم یا متر در منع کیے گئے تھے جو ضعیف الایمان تھے تو ان کو یوں کہنا چاہئے تھا کہ تم شک مت کرو نہ یہ کہ تو شک مت کر کیونکہ ضعیف الایمان آدمی صرف ایک ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی ہوتے ہیں بجائے جمع کے واحد مخاطب کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس وحدت سے وحدت جنسی مراد ہے جو جماعت کا حکم رکھتی ہے اگر تم اول سے آخر تک قرآن شریف کو پڑھو تو یہ عام محاورہ اس میں پاؤ گے کہ وہ اکثر مقامات میں جماعت کو فرد واحد کی صورت میں مخاطب کرتا ہے مثلاً نمونہ کے طور پر ان آیات کو دیکھو۔وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا طَإِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا اَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أَةٍ وَلَا تَنْهَرُهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا۔وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا۔(بنی اسرائیل : 24 تا25) اب دیکھو کہ ان آیات میں یہ ہدایت ظاہر ہے کہ یہ واحد کا خطاب جماعت امت کی طرف ہے جن کو بعض دفعہ انہیں آیتوں میں تم کر کے بھی پکارا گیا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات میں مخاطب نہیں کیونکہ ان آیتوں میں والدین کی تعظیم و تکریم اور ان کی نسبت برو احسان کا حکم ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین تو صغیر سنی کے زمانے میں بلکہ ممدوح کی شیر خوارگی کے وقت میں ہی فوت ہو چکے تھے سو اس جگہ سے اور نیز ایسے اور مقامات سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کو واحد کے طور پر مخاطب کر کے پکارنا یہ قرآن شریف کا ایک عام محاورہ ہے کہ جو ابتدا سے آخر تک جابجا ثابت ہوتا چلا جاتا ہے یہی محاورہ توریت کے احکام میں بھی پایا جاتا ہے کہ واحد مخاطب کے لفظ سے حکم صادر کیا جاتا ہے اور مراد بنی اسرائیل کی جماعت ہوتی ہے۔ایک عیسائی کے تین سوالوں کا جواب صفحہ 6-2 مطبوعہ وشائع کردہ انجمن حمایت اسلام لاہور ) ( مکتوبات احمد جلد سوم صفحہ 36-35)