حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 630
630 روزہ کی رخصت۔مرض اور سفر أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْعَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ اُخَرَ وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔(البقرة: 185) یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے اس میں امر ہے یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ جس کا اختیار ہو رکھ لے جس کا اختیار ہو نہ رکھے میرے خیال میں مسافر کو روزہ نہیں رکھنا چاہیئے اور چونکہ عام طور پر اکثر لوگ رکھ لیتے ہیں اس لیے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی ہرج نہیں مگر عدة من ايام اخر کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہئے۔۔سفر میں تکالیف اٹھا کر جو انسان روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے اس کو اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا یہ غلطی ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت امر اور نہی میں سچا ایمان ہے۔سفر کی تعریف ( ملفوظات جلد اول صفحه 193) میرا مذ ہب یہ ہے کہ انسان بہت وقتیں اپنے اوپر نہ ڈال لے۔عرف میں جس کو سفر کہتے ہیں خواہ وہ دو تین کوس ہی ہو اس میں قصر وسفر کے مسائل پر عمل کرنے إِنَّمَا الأعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ بعض دفعہ ہم دو دو تین تین میل اپنے دوستوں کے ساتھ سیر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں مگر کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم سفر میں ہیں لیکن جب انسان اپنی گٹھڑی اُٹھا کر سفر کی نیت سے چل پڑتا ہے تو وہ مسافر ہوتا ہے۔شریعت کی بنادوقت پر نہیں ہے جس کو تم عرف میں سفر سمجھو وہی سفر ہے اور جیسا کہ خدا کے فرائص پر عمل کیا جاتا ہے ویسا ہی اس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہیئے فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے۔رخصت پر عمل کرنا ( ملفوظات جلد اول صفحہ 446) اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لیے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہیئے میں نے پڑھا ہے کہ اکثرا کا براس طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالت سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرماں برداری میں ہے جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے۔اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔اس نے تو یہی حکم دیا ہے فَمَنْ كَانَ مِنْكُمُ مَّرِيضًا أَوْعَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَر۔اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 68-67) چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور میں نے روزہ نہیں رکھا۔