حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 625 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 625

625 نماز میں لذت ہے نماز خواہ نخواہ کا ٹیکس نہیں بلکہ عبودیت کو ربوبیت سے ایک ابدی تعلق اور کشش ہے اس رشتہ کو قائم رکھنے کے لیے خدا تعالیٰ نے نماز بنائی ہے اور اس میں ایک لذت رکھ دی ہے جس سے یہ تعلق قائم رہتا ہے جیسے لڑکے اور لڑکی کی جب شادی ہوتی ہے اگر ان کے ملاپ میں ایک لذت نہ ہو تو فساد ہوتا ہے ایسے ہی اگر نماز میں لذت نہ ہو تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے دروازہ بند کر کر کے دعا کرنی چاہیئے کہ وہ رشتہ قائم رہے اور لذت پیدا ہوجو تعلق عبود بیت کار بوبیت سے ہے وہ بہت گہرا اور انوار سے پُر ہے جس کی تفصیل نہیں ہو سکتی جب وہ نہیں ہے تب تک انسان بہائم ہے۔اگر دو چار دفعہ بھی لذت محسوس ہو جائے تو اس چاشنی کا حصہ مل گیا لیکن جسے دو چار دفعہ بھی نہ ملا وہ اندھا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمی (بنی اسرائیل : 73 ) آئندہ کے سب وعدے اسی سے وابستہ ہیں۔قصر نماز ( ملفوظات جلد سوم صفحه 592) وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلوةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَفِرِيْنَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا۔(النساء102) فرمایا جو شخص تین دن کے واسطے یہاں آوے اس کے واسطے قصر جائز ہے۔میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر خواہ وہ تین چار کوس ہی کا سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔یہ ہماری سیر سفر نہیں ہے۔ہاں اگر امام مقیم ہو تو اس کے پیچھے پوری ہی نماز پڑھنی پڑے گی۔حکام کا دورہ سفر نہیں ہوسکتا۔وہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کوئی وجود نہیں۔اگر دوروں کی وجہ سے انسان قصر کرنے لگے تو پھر یہ دائی قصر ہوگا۔جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں سعدی نے بھی کہا ہے۔؎ منعم بکوه و دشت و بیاباں غریب نیست هر جا که رفت خیمه زد و خواب گاه ساخت ہر کہ ( ترجمه از مرتب : - سخاوت کرنے والا انسان کبھی بے وطن نہیں ہوتا وہ جہاں بھی جاتا ہے خیمہ تان کر اپنا ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 227) گھر بنالیتا ہے۔) سفر تو وہ ہے جوضرور تا گاہے گاہے ایک شخص کو پیش آوے نہ یہ کہ اس کا پیشہ ہی یہ ہو کہ آج یہاں کل وہاں اپنی تجارت کرتا پھرے۔یہ تقویٰ کے خلاف ہے کہ ایسا آدمی آپ کو مسافروں میں شامل کر کے ساری عمر نماز قصر کرنے میں ہی گزار دے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 185) مرض کی حالت میں قصر نماز نہیں چاہئے البتہ اگر طاقت کھڑے ہونے کی نہ ہوتو بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں۔( مکتوبات جلد 5 نمبر 5 صفحہ 54( مکتوب بنام حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب)